’مواخذے کی تحریک کی بنیاد جھوٹ پر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برازیل کی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے

بحران میں گھری برازیلی صدر جیلما روسیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور پارلیمان میں اپنے خلاف مواخذے کی تحریک کا سامنا کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد ترک نہیں کریں گی اور اگر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور ہو بھی گئی تب بھی وہ حکومت میں واپس آئیں گی۔

جیلما روسیف پر سرکاری رقوم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا الزام ہے، جس سے وہ انکار کرتی ہیں۔

ملک کا سینیٹ آئندہ ہفتے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرے گا اور اگر یہ کارروائی شروع ہو گئی تو ملک کے آئین کے تحت روسیف چھ ماہ کے لیے صدر کے عہدے سے معطل ہو جائیں گی۔

برازیل کے ایک اخبار کی طرف سے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق 81 سینیٹروں کی اکثریت صدر کے مواخذے کی حامی ہے۔

جیلما روسیف نے کہا کہ انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ بےگناہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومتی ارکان اور ہمارے حمایتی سمجھتے ہیں کہ مواخذے کی کارروائی غیر قانونی اور ناجائز ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ناجائز اور غیر قانونی اس وجہ سے ہے کہ اس کی بنیاد جھوٹ پر رکھی گئی ہے اور مواخذے کے پردے میں بالواسطہ انتخاب کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا :’ ہم مزاحمت، مزاحمت اور مزاحمت کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ ’لڑ کر فتحمند ہوں گی اور میرٹ کی بنیاد پر اپنا عہدہ دوبارہ حاصل کریں گی۔‘

روسیف پر انتخابات سے قبل اپنے دورِ اقتدار میں 2014 کے بجٹ میں رد و بدل کر کے ملک کی معیشت کی بہتر تصویر پیش کرنے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں