کینسر کے ڈھونگ پر قانونی کارروائی کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ 9 News 60 Minutes
Image caption بیل گبسن نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے کینسر کا علاج قدرتی طور پر کیا تھا

آسٹریلوں بلاگر اور مصنفہ بیل گبسن کو، جنھوں نے دماغ کے کینسر کا ڈھونگ کیا تھا، اب قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔

بیل گبسن کو آسٹریلیا میں اس وقت شہرت ملی جب انھوں نے بنا کسی طبی مداخلت کے قدرتی علاج کے استعمال سے سرطان کو شکست دی ہے۔

انھوں نے کامیابی کے ساتھ ایپ اور کھانوں کی کتاب لانچ کی اور بعد میں یہ تسلیم کیا کہ ان کی بیماری کی تشخیص جھوٹی تھی۔

کنزیومر افیئرز وکٹوریا اب بیل گبسن پر مبینہ طور پر آسٹریلوں صارفین کے قوانین توڑنے کا مقدمہ چلانے پر غور کر رہے ہیں۔

منتظم کا کہنا ہے کہ انھوں نے کافی غور کے ساتھ بیل گبسن کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی ہیں اور آسٹریلیا کی وفاقی عدالت میں ان پر قانونی کارروائی کرنے کے لیے درخواست دی گئی ہے۔

بیل گبسن نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے کینسر کا علاج آیورویدک ادویات، آکسیجن تھیراپی، گلوٹن اور خالص شوگر فری خوراک سے کینسر کا علاج کیا جس کے بعد ان کی شہرت میں اضافہ ہوگیا۔

انھوں نے اس کے بعد اپنی شہرت پر ایپ اور کھانوں کی کتاب جنھیں ’ہول پینٹری‘ کا نام دیا گیا کے ذریعے سرمایہ کاری کی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس سے حاصل ہونے والے منافع میں سے کچھ حصہ فلاحی اداروں کو دیں گی۔

تاہم مبینہ طور پر یہ رقم فلاحی اداروں تک نہ پہنچی اور بیل گبسن کی کہانی میں دراڑ دکھائی دینے لگی۔

بعد میں انھوں نے آسٹریلوں وومن ویکلی جریدے میں تسلیم کیا کہ ان کے دعووں میں سے کوئی بھی سچا نہیں تھا۔

اپنے رویے کی صفائی دینے کی کوشش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے تو میں خود کسی منطق کے ساتھ کوئی جواب لاؤں گی۔ میرے خیال میں جب آپ کو جواب معلوم نہ ہو تو واپس لوٹنا اکثر آسان ہوتا ہے۔‘

بیل گبسن کے ناشر پینگوئن آسٹریلیا ’دی ہول پینٹری‘ کو بنا جانچ پڑتال کے شائع کرنے پر پہلے ہی وکٹورئن کنزیومر لاء فنڈ کے لیے بطور جرمانے کے 30 ہزار آسٹریلوی ڈالر ادا کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں