یہودیوں کی عبادت گاہ پر مسجد کا منصوبہ

Image caption ایک وقت تھا جب یہ عبادت گاہ یہودی عابدوں سے بھری رہتی تھی

فرانس کے شہر مارسے کے مرکز میں واقع یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پہلی بار ایک مسلم تنظیم کو فروخت کیے جانے کے مرحلے میں ہے جس پر تنظیم مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اس شہر میں فرانس کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی پر مشتمل یہ شہر تاریخی طور پر روادری اور ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنے کے لیے معروف ہے۔

لیکن اب یہاں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔

ایک وقت تھا جب یہ عبادت گاہ یہودی عابدوں سے بھری رہتی تھی لیکن اب اس کی پیلی رنگ کی دیواریں اشتہارات سے بھری ہوئی ہیں اور اس کے دروازے بند پڑے ہیں۔

اس عبادت گاہ کے اردگرد یہودیوں کی بڑی آبادی تھی لیکن جیسے جیسے یہودی خاندان امیر ہوتےگئے ویسے ویسے بہت سے یہودی شہر کے بہتر علاقوں میں منتقل ہوتے رہے اور ان کی جگہ نقل مکانی کرنے والے مسلمان لیتے رہے۔

یہ سلسلہ اس طرح چلا کہ اب اس کے آس پاس یہودیوں کی آبادی نہیں رہی ہے اور یوں یہودی عبادت گاہ بند پڑی ہے۔

Image caption اس یہودی عبادت گاہ کے پاس ہی بلال نامی ایک مسجد بھی آباد ہے

یہی وجہ ہے کہ شہر میں یہودیوں کے اہم مذہبی پیشوا روبین اوہان نے اس قدیم عبادت گاہ کو مسلمانوں کی ایک قدامت پسند تنظیم البدر کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے جو اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

ربّی روبین اوہان کا کہنا ہے کہ عبادت گاہ کو بند کرنے کا فیصلہ بہت ہی غور و فکر کے بعد کیا گيا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اگر اس کو بند ہی کرنا ہے تو اسے یونہی خالی چھوڑنے سے بہتر ہے کہ اسے فروخت کر دیا جائے۔ اور اگر فروخت ہی کرنا ہی ہے تو اس جگہ پر دوکان یا کلب کھولنے سے اچھا ہے کہ وہ عبادت گاہ ہی رہے تو اور بہتر ہے۔‘

ان کے بہت سے مقتدی بھی اس فیصلے سے خوش ہیں۔ ایک یہودی خاتون کا کہنا تھا: ’یہودی برادری کا مارسے کے مرکز سے یوں نکل جانا اور اس عمارت پر دوسرے مذہب کا قبضہ ہوتے دیکھنا مایوس کن بات ہے۔ لیکن کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

ایک دوسرے شخص کا کہنا تھا: ’لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ یہودیوں کی آبادی آس پڑوس سے بالکل ختم ہوگئی ہے۔‘

Image caption اس شہر میں ابھی بھی آبادی کی مناسبت سے مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اچھی خاصی ہے

ایک دوسری خاتون نے اس کے ردعمل میں کہا: ’مجھے اس کی جگہ مسجد بننے سے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میں چاہتی ہوں کہ وہ وہاں پر نفرت کی تبلیغ نہ کریں۔‘

توری عبادت گاہ کے پاس ہی بلال نامی ایک مسجد بھی ہے جس کے متولی موسی کوٹی ہیں۔ یہ مسجد بھی دوسری تقریباً سو مساجد کی طرح شہر میں مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ ہے لیکن مسلم برادری کی آبادی جس تیزي بڑھی ہے اس حساب سے یہ بھی ان کے لیے کم ہیں۔ یہاں تقریباً دو لاکھ مسلمان آباد ہیں۔

تقریباً نصف صدی قبل جب فرانس نے افریقہ میں اپنی نو آبادیات ترک کی تھیں اس کے بعد سے ہی مارسے میں یہودیوں اور مسلمانوں کی آبادی میں تیزي اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔

اس شہر میں ابھی بھی آبادی کی مناسبت سے مسلمانوں اور یہودیوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔