عراق میں 50 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی عراق میں سنجار، مغربی عراق میں انبا اور شاملی علاقے تکریت کے مقامات پر اجتماعی قبروں سے بھی انسانی باقیات ملے

اقوامِ متحدہ کے ایک ایلچی کے مطابق عراق میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں رہنے والے بعض علاقوں میں اب تک 50 سے زائد اجتماعی قبریں دریافت کی جا چکی ہیں۔

جان کوبس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یہ قبریں دولتِ اسلامیہ کے سنگین جرائم کا ثبوت ہیں۔

* تکریت میں 1700 افراد کی اجتماعی قبریں دریافت

یہ اجتماعی قبریں حالیہ مہینوں کے دوران عراقی فورسز کی جانب سے ان علاقوں کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے بعد سامنے آئی ہیں۔

اپریل میں رمادی میں ملنے الے قبر میں 40 سے زائد افراد کے باقیات تھے۔

جان کوبس کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادی کو دولتِ اسلامیہ کے جنجگوؤں کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔

عراقی حکومت نے رمادی کے بعض حصوں کا قبضہ دسمبر 2015 میں دوبارہ حاصل کیا تھا جس پر دولتِ اسلامیہ نے مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔

شہر کے بعض حصوں میں فروری 2016 تک مزاحمت جاری رہی تاہم اس کے بعد یہ مکمل طور پر حکومت کے اختیار میں آگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ادھر شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضے رہنے والے علاقوں میں بھی اجتماعی قبریں ملی ہیں

شمالی عراق میں سنجار، مغربی عراق میں انبار اور شاملی علاقے تکریت کے مقامات پر اجتماعی قبروں سے بھی انسانی باقیات ملے۔

جن لوگوں کو ناشنہ بنایا گیا ان میں قبائلی، عراقی فوجی، عورتیں اور اقلیتی گروہپ یزیدی کے لوگ شامل تھے۔

ادھر شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضے رہنے والے علاقوں میں بھی اجتماعی قبریں ملی ہیں۔

جان کبوس عراق میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مشن کے ایلچی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں دولتِ کی جانب سے عراقی شہریوں کے اغوا، ریپ ، تشدد اور قتل کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔وہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم حتیٰ کہ نسل کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کو صرف فوج کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی بلکہ شدت پسندی کی جڑ کو ختم کرنا ضروری ہے۔

جان کبوس کا کہنا تھا کہ عراق کا انسانی بحران دنیا کا بدترین بحران ہے جہاں ایک کروڑ یعنی ملک کی ایک تہائی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں