مالِ مفت دلِ بے رحم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لی نے 10 لاکھ ڈالر سے اشیاعے تعیش خریدنے کے لیے خرچ کیے جن میں مہنگی ترین ہینڈ بیگ بھی شامل ہیں

آسٹریلیا کی ایک عدالت نے ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے جس نے بینک سے 46 لاکھ ڈالر نکلوائے جو بینک نے غلطی سے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے تھے۔

21 سالہ کرسٹین جاکزن لی نے اشیائے تعیش خریدنے کے لیے10 لاکھ ڈالر خرچ کیے جن میں مہنگے ترین ہینڈ بیگ بھی شامل ہیں۔

لی ایک طالب علم ہیں، ان کو بدھ کے روز سڈنی کے ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملائیشیا کے لیے روانہ ہونے والی تھیں۔

سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے کہ لی نے ویسٹ پیک بینک سے یہ رقم ایک سال کے اندر نکالی اور اس دوران بینک کو اوور ڈرافٹ کی غلطی کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی۔

آسٹریلیا کے خبر رساں ادارہ ’اے بی سی‘ نے اپنے رپورٹ میں کہا کہ لی پردھوکہ بازی سے مالی فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔

سڈنی کی عدالت نے لی کے متعلق بیان سنا جس میں کہا گیا کہ یہ کیمیکل انجنیئرنگ طالبہ آسٹریلیا میں پانچ سال سے مقیم تھیں اور اگست 2012 میں ویسٹ پیک بنگ میں اکاؤنٹ کھولا اور غلطی سے ان کے اکاؤنٹ میں لاتعداد اوورڈرافٹ دے دیا گیا تھا۔

میجسٹریٹ لیزا سٹیپلٹن نے لی کو سخت پابندیوں کے تحت ضمانت پر رہا کیا ۔

لی کے وکیل نے کہا کہ وہ اپنے والدین کو ملنے کے لیے ملائیشیا جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اسی بارے میں