سکاٹش نیشنل پارٹی کا سکاٹ لینڈ میں جیت کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انگلینڈ میں جمعرات کو ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں جہاں حزبِ مخالف کی جماعت لیبر پارٹی نے اہم کونسلوں پر کنٹرول برقرار رکھا ہے وہیں سکاٹ لینڈ میں وہ ایوان میں تیسری بڑی جماعت ہی بن سکی ہے۔

سکاٹش نیشنل پارٹی نے تیسری بار سکاٹ لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں ’تاریخی‘ کامیابی حاصل کی ہے تاہم اسے اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں نہیں مل سکی ہیں۔

٭ برطانیہ میں انتخابات کا دن

٭ زیک سمتھ: ارب پتی کے بیٹے، جمائما کے بھائی

٭ صادق خان: بس ڈرائیور کے بیٹے کا لمبا سفر

لیبر پارٹی کے رکن اور پارٹی کے قائد جیریمی کوربن کے نقاد ٹام واٹسن نے تسلیم کیا ہے کہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ’اچھی کارکردگی‘ کا مظاہرہ کیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبر پارٹی کو کمزور کنزرویٹو پارٹی کے مقابلے میں واضح اکثریت سے جیتنا چاہیے تھا۔

جمعرات کو لندن کے میئر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے بعد گنتی کا عمل جمعے کو جاری ہے اور اس الیکشن کے نتیجے کا اعلان جمعے کو رات گئے سے پہلے ممکن نہیں ہو گا۔

سکاٹ لینڈ میں ہونے والے الیکشن میں لیبر پارٹی کو ٹوریز نے تیسری پوزیشن پر دھکیل دیا ہے جبکہ لبرل ڈیموکریٹس ایوان میں پانچویں بڑی جماعت ہی بن پائی ہے۔

یو کے آئی پی ویلز کی اسمبلی میں پہلی بار کوئی نشست جیتنے کی راہ پر ہے اور اس الیکشن میں اسے سات نشستیں ملنے کے واضح امکانات ہیں۔

تاہم ویلز کی اسمبلی میں لیبر پارٹی ہی سب سے بڑی جماعت بننے کی راہ پر ہے تاہم اسے حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت ملنے کے امکانات نہیں ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں تمام نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور سکاٹش نیشنل پارٹی 63 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے جبکہ کنزرویٹوز نے 31 اور لیبر نے24 نشستیں جیتی ہیں۔

بی بی سی کے تجزیے کے مطابق جنوبی انگلینڈ میں ٹوری پارٹی کو کم ووٹ ملے جس کی وجہ سے لیبر پارٹی کو کرالے، ساؤتھ ہیمپٹن، نورچ اور ہیسٹنگز کی کونسلوں کا کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

سنہ 2012 انگلینڈ میں ہونے والے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کا اوسط ووٹ شیئر چھ فیصد کم رہا تھا تاہم بی بی سی کے تجزیے کے مطابق اس بار اس کا ووٹ شیئر چار فیصد اوپر جانے جبکہ کنزرویٹو پارٹی کا ووٹ شیئر نیچے جانے کا امکان ہے۔

ایک دوسری رائے کے مطابق مطابق سکاٹ لینڈ میں لیبر پارٹی کا شیئر 11 فیصد کم ہے اور اسے لبرل ڈیموکریٹس کے پیچھے چوتھی پوزیشن پر دھکیلا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں