سعودی حکومت میں تبدیلیاں، تیل کے وزیر برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ملک کے تجربہ کار تیل کے وزیر کو برطرف کر دیا ہے جو کہ حکومت میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں کا حصہ کہا جا رہا ہے۔

علی ال نعیمی جو کہ گذشتہ 20 سال سے اس عہدے پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے کی جگہ اب سابق وزیر برائے صحت خالد ال فلیح کو یہ عہدہ سونپا گیا ہے۔

تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے اپریل میں بڑی معاشی اصلاحات کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ملک کا تیل پر سے انحصار کم کرنا ہے۔

گذشتہ سال سعودی عرب کی آمدن کا تقریباً 70 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوا تھا لیکن تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں سے اسے شدید دھجکا پہنچا ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق حکومت میں کی جانے والی تبدیلیوں کے ذریعے کئی وزارتوں کو آپس میں ضم کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر کو جن میں پانی و بجلی کی وزارت کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔

ملک میں انٹرٹینمنٹ اور کلچر کے لیے بھی سرکاری ادارہ بنایا گیا ہے۔

بی بی سی عرب افیئرز کے مدیر سبیسٹیئن اوشر کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان کے بیٹے شہزادہ محمد ملک کی معاشی پالیسی کو دیکھتے ہیں اور علی ال نعیمی کو ہٹائے جانے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ تیل پر سخت کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔

خالد ال فلیح نے 30 سال ملک کی سرکاری تیل کی بڑی کمپنی ارامکو میں کام کیا جبکہ حال ہی میں وہ بطور چیئرمین ذمہ داری ادا کر رہے تھے۔

وہ جلد ہی نئی محکمے کا چارج سنبھالنے والے ہیں جہاں وہ توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کے انتظامی امور دیکھیں گے۔

اسی بارے میں