وکی لیکس کے بانی کے لیے بلی کا تحفہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جولیئن اسانژ نے سنہ 2012 میں لندن میں موجود ایکواڈور کے سفارت خانے میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی

وکی لیکس کی بانی جولیئن اسانژ گذشہ تقریباً چار سال سے ایکواڈور کے سفارت خانے میں رہ رہے ہیں اور اب انھیں بلی کے بچے کی صورت میں ایک نیا ساتھی مل گیا ہے۔

بلی کا یہ تحفہ ان کے بچوں کی جانب سے دیا گیا ہے۔ اس کا نام تاحال تجویز نہیں کیا گیا تاہم سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس کا اکاؤنٹ EmbassyCat@ کے نام سے موجود ہے۔

جولیئن اسانژ نے سنہ 2012 میں لندن میں موجود ایکواڈور کے سفارت خانے میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی تاکہ وہ سویڈن کے حوالے نہ کیے جا سکیں۔ سویڈن میں ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

انھیں خدشہ ہے کہ اگر وہ یہاں سے گئے تو انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں ان پر مقدمہ چل سکتا ہے۔

جولیئن اسانژ اس وقت عالمی خبروں کا مرکز بنے تھے جب ان کی ویب سائٹ وکی لیکس نے دنیا بھر کی اہم شخصیات کی خفیہ دستاویزات افشا کی گئی تھیں، جن میں امریکہ کی اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس کا نام تاحال تجویز نہیں کیا گیا

’ایمبیسی کیٹ‘ اکاؤنٹ سے قبل بھی کئی پالتو جانوروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ موجود ہیں، جن میں امریکی محکمۂ خارجہ، برطانوی سیکریٹری خارجہ فلپ ہمنڈ کے پالتو جانوروں اور برطانوی دفتر خارجہ کی بلی پالمرسٹن شامل ہیں۔

جولیئن اسانژ کی بلی کے اکاؤنٹ کی جانب سے ایک ٹویٹ پالمرسٹن کو بھیجا گیا جو شیکسپیئر کے ڈرامے ہینری ششم حصہ دوئم کا ایک مکالمہ تھا۔

’چھوٹے جانور جب دانت نکالتے ہیں تو کوئی توجہ نہیں دیتا، لیکن عظیم آدمی کانپنے لگتے ہیں جب شیر دھاڑتا ہے۔‘

پالمرسٹن جو ٹوئٹر پر DiploMog@ کے نام سے ہے، تاحال اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جولین اسانژ کی بلی کے اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ پالمرسٹن کو بھیجا گیا

اسی بارے میں