ڈرون حملوں کی ’قانونی حیثیت کی وضاحت ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption گذشتہ اگست میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ایک برطانوی رکن ریاض خان کو شام میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا

برطانیہ میں مختلف جماعتوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وزرا کو چاہیے کہ وہ جنگ کے علاوہ ڈرون حملوں کو قانونی طور پر استعمال کرنے کے معاملے کی ’وضاحت‘ کریں۔

انسانی حقوق کے بارے میں مشترکہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے ’ٹارگٹ کلنگ‘ کی کوئی پالیسی نہیں ہے لیکن وہ بیرونی ممالک میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں واضح طور پر مہلک طاقت کا استعمال کرنے پر تیار ہے۔

گذشتہ سال شام میں برطانوی فضائیہ کے ایک ڈرون حملے میں دو برطانوی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ برطانیہ کو لاحق براہ راست خطرے کے خلاف قانونی کارروائی‘ کرتی ہے۔

گذشتہ اگست میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ایک برطانوی رکن ریاض خان شام میں برطانوی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اسی حملے میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ روح الامین بھی ہلاک ہوئے تھے۔

پارلیمان کو ریاض خان کی ہلاکت کے بارے میں بتاتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ کارڈف سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ریاض برطانوی سر زمین پر’وحشیانہ حملہ‘ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر پارلیمان نے برطانوی فوج کو شام میں فوجی کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن حکومت نے وہ ڈرون حملہ ’اپنے دفاع‘ میں کیا تھا، اس لیے وہ جائز تھا۔

لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت یہ موقف جائز نہیں ہے اور بعد میں برطانوی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں اس حملے کا جواز عراق میں مسلح تصادم کی صورت حال میں تلاش کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی فضائیہ نے شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے اڈوں پر بم حملے کرنے کے لیے ’ریپر ڈرونز‘ کا استعمال کیا ہے

کمیٹی کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ یہ ڈرون حملہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف مسلح تصادم کا حصہ تھا اور اس وجہ سے جنگی قانون کے دائرے میں تھا۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں تضادات ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ مسلح جنگ کے علاوہ مہلک طاقت استعمال کرنے کی حکومتی پالیسی کے ساتھ ساتھ اس کی قانونی حیثیت کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے۔

ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع میں حملہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ ہونے سے پہلے کسی خطرے کے خلاف کارروائی کریں، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص حملے کے بارے میں بات چیت کرتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ ہو یا پھر اس کام کے لیے اس کے پاس صلاحیت بھی موجود ہو۔

اسی بارے میں