فرانس: ملازمت سے متعلق متنازع بل پر ملک گیر مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کو سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے پیرس میں قومی اسبملی کے سامنے مظاہرہ کیا

فرانس میں حکومت کی جانب سے ملازمت سے متعلقہ اصلاحات کے متنازع بل کی منظوری کی کوششوں کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

فرانسیسی شہر نانت میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ دارالحکومت پیرس میں پولیس نے قومی اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والوں پر ربڑ کی گولیاں چلائی ہیں۔

اس سے قبل فرانس کی کابینہ نے پارلیمانی منظوری کے بغیر اصلاحات کے نفاذ کے لیے خصوصی اختیارات کے استعمال کی منظوری دی تھی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ملک میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

ان اصلاحات سے ملازمت دینے والوں کے لیے کسی کو ملازمت پر رکھنا اور ملازمت سے فارغ کرنے میں آسانی پیدا ہوگی تاہم مخالفین کو خدشہ ہے کہ اس سے مالکان ملازمین کے تنخوا، اضافی کام اور وقفے کے حقوق کو بھی سلب کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔

صدر فرانسسوا اولاند کو کئی ماہ سے اس بل پر طالب علموں، یونینز اور یہاں تک کہ ان کی اپنی سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔

منگل کو سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے پیرس میں قومی اسبملی کے سامنے مظاہرہ کیا اور صدر اولاند کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے تاحال جاری ہیں۔

سوشل میڈیا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گرونوبل اور مونٹپیلیر میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ لیل، ٹوئرس اور مرسیلز سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانسیسی شہر نانت میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں

فرانسیسی اخبار لی پیرسین کے مطابق تولوز میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو نوجوان مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے حکمراں سوشلسٹ پارٹی کے ارکان پارلیمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس بل کی مخالفت کے بعد اصلاحات کے نفاذ کے لیے آئین کی اس شق کا استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل صدر اولاند کے دور میں ایک اور متنازع معاشی اصلاحات کے نفاذ کے لیے اس آئینی شق کا استعمال کیا گیا تھا۔

وزیراعظم میوئل ولس نے جب قومی اسمبلی میں کابینہ نے فیصلے کے بارے میں آگاہ لیا تو انتہائی دائیں بازو اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان پر نعرے بازی کی گئی۔

صرف اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اس بل کو روکا جا سکتا ہے، جس کے لیے جمعرات کو دو دائیں بازو کی جماعتیں درخواست دائر کریں گی۔

حکومت گرانے کے لیے انھیں کل 288 درکار ہیں جن میں سے ان کے پاس 226 ووٹ ہیں۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا بظاہر ممکن نہیں کہ بائیں بازو کے ارکان پارلیمان ان کا اس معاملے پر ساتھ دیں۔

اسی بارے میں