جرمنی: ’حملہ آور ذہنی مریض اور منشیات کا عادی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس ترجمان کے مطابق ایک شخص پر ٹرین میں جبکہ دیگر افراد پر سٹیشن کی عمارت کے باہر چاقو سے وار کیے گئے

جرمنی کے شہر میونخ میں حکام کے مطابق ایک ریلوے سٹیشن کے قریب چاقو کے وار سے ایک مسافر کو ہلاک اور دیگر تین کو زخمی کرنے والا شخص نفسیاتی مسائل کا شکار اور منشیات کا عادی ہے۔

اس شخص نے منگل کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق تین بجے کے قریب گرافنگ سٹیشن کے قریب چار افراد پر حملہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

حملہ کرنے والے 27 سالہ جرمن شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

چند عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس شخص نے ’اللہ اکبر‘ بھی پکارا تھا۔

تاہم ریاست باواریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’تاحال ہمیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ اس عمل کے اسلامی شدت پسندانہ محرکات تھے۔‘

ترجمان اولیور پلاٹزر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس شخص کو نفسیاتی اور منشیات کے مسائل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

مشتبہ شخص کی شناخت جرمن شہری کے طور پر ہوئی ہے اور بظاہر وہ وسطی جرمنی کے علاقے ہیسن کا رہائشی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملہ کرنے والے 27 سالہ جرمن شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے

اس سے قبل پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ’سیاسی محرکات‘ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

باوریا کے وزیرداخلہ یوآخم ہیرمان کے مطابق یہ ایک خوفناک حملہ تھا اور ایک اور زخمی کی حالت تشویش ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا شواہد نہیں ملے کہ وہ شخص تارک وطن تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’تاحال ریاست کے سکیورٹی سے متعلقہ کوئی بات سامنے نہیں آسکی۔‘

میونخ سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گرافنگ سٹیشن پر بنائی گئی ویڈیو میں پلیٹ فارم اور ٹرین میں خون کے نشانات دیکھے جا سکتے تھے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ایک شخص پر ٹرین میں جبکہ دیگر افراد پر سٹیشن کی عمارت کے باہر چاقو سے وار کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں