چینی بہت مغرور ہیں: ملکۂ برطانیہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ چینی صدر کا دورہ ’نہایت کامیاب‘ رہا تھا

گذشتہ سال چینی وزیرِ اعظم شی جن پنگ کے دورۂ برطانیہ کے موقعے پر ملکۂ برطانیہ کو کیمرے پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ چینی حکام ’بہت مغرور‘ ہیں۔

وہ بدھ کو بکنگھم پیلس میں ایک پارٹی کے دوران ایک سینیئر پولیس افسر کے ساتھ چین میں برطانوی سفیر کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔

بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ چینی صدر کا دورہ ’نہایت کامیاب‘ رہا تھا۔

یہ باتیں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے حال ہی میں اس تبصرے کے بعد کی گئیں جب انہوں نے ملکہ سے اپنی گفتگو میں افغانستان اور نائجیریا کو دو ’زبردست بدعنوان‘ ملک قرار دیا۔

ملکہ کی یہ بات منگل کے دن اس وقت ریکارڈ کی گئی جب وہ میٹروپولٹن پولیس کمانڈر لوسی ڈورسی سے مل رہی تھیں ۔ ملکہ کو بتایا گیا کہ ڈورسی نے اکتوبرمیں صدر شی جن پنگ کی سکیورٹی کا انتظام کیا تھا۔

اس کے جواب میں ملکہ کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ’اوہ، بری قسمت۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملکۂ برطانیہ کوکہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ چینی حکام ’نہایت غرور‘ سے پیش آئے

ایک سرکاری اہلکار نے ملکہ کو مزید بتایا کہ ’چینیوں نے ان (ڈورسی) کو شدی مشکلات میں ڈالا لیکن انھوں (ڈورسی) نے صورت حال کو قابو میں رکھا۔‘

کمانڈر ڈورسی نے ایک ایسے واقعے کے بارے میں تفصیل دی جس میں سرکاری چینی اہلکار لینکاسٹر ہاؤس سے واک آؤٹ کرنے والے تھے۔ ملکہ نے اس کے ردِ عمل میں کہا: ’وہ (برطانوی سفیر) سے ’نہایت غرور‘ سے پیش آئے۔ بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے بعد میں کہا: ’ہم ملکہ کی نجی گفتگو پر تبصرہ نہیں کرتے، تاہم چینی صدر کا دورہ نہایت کامیاب رہا۔‘

صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لؤان کو بکنگھم پیلس میں ملکہ کی جانب سے شاہی ضیافت دی گئی تھی۔

ملکہ نے کہا تھا کہ برطانیہ اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ رہے ہیں لیکن بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار پیٹر حنٹ کا کہنا تھا کہ ملکہ کے محل کے باغ میں کی گئی باتوں سے یہ راز کھلا ہے کہ پس پردہ یہ ایک صبر آزما ملاقات تھی۔

اسی بارے میں