سعودی عرب کی تیل کی پیداوار میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

’سعودی آرامکو میں خوش آمدید‘ بطور غیر ملکی صحافی آپ اکثر ایسا پیغام نہیں دیکھتے۔

سعودی عرب میں عام طور پر خاموشی سے کام کرنے والی سرکاری تیل کی کمپنی آرامکو نے بی بی سی کے نامہ نگار سمیت چند صحافیوں پر مشتمل ایک گروپ کو مشرقی شہر دہران میں اپنے ہیڈ کوارٹر مدعو کیا ہے۔

یہ صحافیوں کے لیے کمپنی کے سینیئر ایگزیکٹیوز سے ملنے اور ان سے سعودی عرب میں کمپنی کے جدید طرز کے منصوبوں کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہی حاصل کرنے کا نادر موقع ہے۔

تاہم دیگر تیل پیدا کرنے والوں کے لیے تیل کی پیداوار کو کم کر کے قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

درحقیقت چیف ایگزیکٹیو امین ناصر کا کہنا ہے کہ 2016 میں اپنے حصص فروخت کرنے سے قبل کمپنی کی پیداوار بڑھ جائے گی، جس سے کمپنی کی قدر میں 20 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوگا جوکہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی قدر سے چار گنا زیادہ ہے۔

تیل کی سرکاری کمپنی آرامکو کے پانچ فیصد تک حصص کی فروخت 2030 تک سعودی معیشت میں ڈرامائی اضافے کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد سعودی عرب کا تیل اور گیس پر انحصار کم کرنا ہے۔

امین ناصر نے بزنس ایڈیٹر سائمن جیک کو بتایا کہ ’یہ بروقت اور مزید وسائل کی نشاندہی اور آمدن کے اضافی ذرائع پر سرمایہ کاری کے لیے متوقع ہے۔‘

’لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ منصوبے کے مطابق یہ توسیع فوسل توانائی کی جگہ نہیں ہے۔‘

سعودی عرب کے وژن 2030 کے لیے تیل کے پیسے سے بھرے خزانوں سے دیگر صنعتوں جیسے کہ پیٹرو کیمیکل، کان کنی، سیاحت اور تعمیرات میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

اس منصبے کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ 15 سالوں میں معیشت میں دو گنا اضافہ ہو گا اور 60 لاکھ سعودی ملازمتیں پیدا ہوں گی جس کے لیے بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

یہ اس ملک کے لیے انتہائی مشکل کام ہوگا جو اس وقت اپنی آمدن کا 90 فیصد تیل اور گیس سے حاصل کرتا ہے۔

اگر اس میں کامیابی حاصل ہو بھی جاتی ہے تب بھی تیل کی پیداوار کو کسی بھی لمحے نہیں کم کیا جا سکے گا اور اس سے وینزویلا، نائجیریا اور درحقیقت شمالی سمندر میں تیل پیدا کرنے والے دیگر حریفوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دے گا۔

اسی بارے میں