بی بی سی ’مخصوص مواد‘ کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

برطانیہ کے سیکریٹری برائے ثقافت جان وٹنگڈیل نے کہا ہے کہ بی بی سی کو اپنی توجہ ’مخصوص مواد‘ کی تیاری پر مرکوز رکھنی چاہیے جو اسے ممتاز کرتا ہے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو برطانوی دارالعوام میں بی بی سی میں تبدیلیوں کے منصوبے کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہی۔

٭ بی بی سی کی سیاسی خودمختاری ختم ہو رہی ہے

برطانوی حکومت نے بی بی سی میں ’بڑے پیمانے پر تبدیلیوں‘ کا منصوبہ بنایا ہے، جسے ایک وائٹ پیپر میں پیش کیا گیا ہے۔

ان تبدیلیوں کے تحت بی بی سی کی نگرانی کرنے والے ٹرسٹ کو ختم کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ روزمرہ کے معاملات چلانے کے لیے ایک بورڈ مقرر کیا جائے گا جس کے کچھ ارکان حکومت کی جانب سے تعینات کیے جائیں گے البتہ کم از کم نصف ارکان کو بی بی سی خود مقرر کرے گی۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ٹی وی لائسنس فیس کم از کم 11 سال تک جاری رہے گی جبکہ ناظرین کو بی بی سی آئی پلیئر کے استعمال کے لیے رقم دینا ہوگی۔

اوفکوم کو بی بی سی کے بیرونی نگران کے فرائض سرانجام دینے کی ذمہ داری سونپی جائے گی جبکہ بی بی سی سے بھاری تنخواہیں پانے والے افراد کی تنخواہیں منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ بی بی سی کی عالمی سروس کے لیے موجودہ 254 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ کو پانچ سال کے لیے تحفظ دینے کی بات کی گئی ہے۔

جان وٹنگڈیل نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس بات پر زور نہیں دے رہے کہ بی بی سی کو مقبولِ عام نہیں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ بی بی سی کو اپنے حریفوں کے مقبول پروگراموں کے مقابلے میں پروگرام پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Image caption کلچر سیکریٹری جان وٹنگ ڈیل بی بی سی کے چارٹر کی تجدید کے نگران ہیں

سیکریٹری برائے ثقافت کا کہنا تھا کہ بی بی سی کے کچھ مخصوص پروگراموں کے ناظرین کی تعداد بہت وسیع ہے کیونکہ وہ بہت اچھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بی بی سی کے بنیادی مشن کی مرکزی نکتے کے طور پر اس بات کو لازمی بنایا جائے گا کہ وہ مخصوص اور نمایاں پروگرام اور خدمات میسر کرے۔

جان وٹنگڈیل نے کہا کہ ’مواد کمیشن کرنے والے مدیران کو مسلسل نئے پروگراموں کے بارے میں دریافت کرتے رہنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان مدیران کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ آیا کسی نئے پروگرام کا آئیڈیا اچھوتا اور عمدہ معیار کا ہے نہ کہ وہ یہ سوچیں کہ اس کی ریٹنگ کیسی رہے گی؟

جان وٹنگڈیل کے بیان پر پارلیمان میں ردعمل دیتے ہوئے شیڈو سیکریٹری ثقافت ماریا ایگل نے کہا کہ بی بی سی کے مشن کو عوام کی حمایت حاصل ہے اور اب سیکریٹری ثقافت اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو کہ باعثِ فکر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ وہ (جان وٹنگڈیل) بی بی سی کے معاملے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں اور وہ اس کا حجم کم کرنا چاہتے ہیں۔‘

ماریا ایگل نے کہا کہ ان کے خیالات لائسنس فیس دینے والوں سے مطابقت نہیں رکھتے جو کہ بی بی سی کی قدر اور حمایت کرتے ہیں۔‘

شیڈو سیکریٹری ثقافت نے یہ بھی کہا کہ وہ اس خیال سے متفق نہیں کہ (جان وٹنگڈیل) کا امتیاز کے بارے میں جنون بی بی سی کے مشن سے متعلق بیان کا حصہ بنایا جائے۔

بی بی سی کا حالیہ رائل چارٹر، جس کے تحت ادارے کے قواعد اور مقاصد وضع کیے جاتے ہیں، اس سال دسمبر میں ختم ہو رہا ہے۔ اس کے مستقبل کے بارے میں عوامی مشاورت گذشتہ برس شروع کی گئی تھی۔

حکومتی تجاویز پر دارالعوام کے ارکان رواں برس موسمِ خزاں میں بحث کریں گے جس کے بعد آئندہ 11 برس کے لیے نیا چارٹر تیار کر کے اس کی منظوری دی جائے گی۔

حکومت کے وائٹ پیپر پر ردعمل دیتے ہوئے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال نے کہا ہے کہ ’یہ ایک ایسے مضبوط اور تخلیقی بی بی سی کا مینڈیٹ ہے جس پر عوام کو یقین ہے۔ یہ ایسی بی بی سی ہوگی جو تخلیقی صنعتوں اور سب سے بڑھ کر برطانیہ کے لیے بہتر ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ بی بی سی کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی صحتمندانہ بحث کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

’بات یہ ہے کہ ہمارے پاس 11 برس کا چارٹر ہے، 11 برس کے لیے لائسنس فیس کی ضمانت ہے اور بی بی سی آج جو کچھ جس پیمانے پر کر رہی ہے اس کی ثوثیق ہے۔‘

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ادارہ حکومت سے نیشنل آڈٹ آفس کو بی بی سی کا آڈیٹر بنانے اور نئے بورڈ کی تعیناتی کے طریقوں جیسے معاملات پر حکومت سے بات چیت جاری رکھے گا۔

اسی بارے میں