برطانیہ میں غیر ملکیوں کے اثاثے ظاہر کرنے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے نائجیریا اور افغانستان کو ’زبردست بدعنوان‘ قرار دینے کے متنازع بیان کے بعد اجلاس پہلے ہی کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں منی لانڈرنگ کو ختم کرنے کی کوشش کے سلسلے میں جائیداد کی مالک تمام غیرملکی کمپنیوں کو اپنے اثاثے عوام کے سامنے ظاہر کرنا ہوں گے۔

اگر ان کمپنیوں کی کوئی جائیداد ہے یا وہ کوئی سرکاری کنٹریکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ایک نئے رجسٹر پر آنا ہو گا۔

یہ اقدام وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے عالمی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔

٭ بدعنوانی کےخلاف عالمی لائحہ عمل کےلیےلندن میں کانفرنس

عالمی سربراہان لندن میں ایک اجلاس کے لیے جمع ہو رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے مسلے سے نمٹنے کے لیے راستہ تلاش کیا جا سکے۔

یہ اپنی نوعیت کا واحد اجلاس ہے جس میں حکومتیں، کاروبار اور سول سوسائٹی اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اس اجلاس کی میزبانی ڈیوڈ کیمرون کریں گے۔ فی الحال لینکاسٹر اجلاس میں شریک ہونے والوں کی مکمل فہرست تو شائع نہیں کی گئی ہے لیکن اس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری، نائجیریا کے صدر محمدو بوہاری اور افغان صدر اشرف غنی شامل ہوں گے۔

اجلاس کے ایجنڈے کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکی ہیں، البتہ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں ’بدعنوانی سے پردہ اٹھانے پر اتفاق کیا جائے گا تاکہ چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہ رہے۔‘

برطانوی اخبار گارڈیئن میں اجلاس سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے لکھا کہ ’آج دنیا میں تمام مسائل کی جڑ بدعنوانی ہے جو کینسر کی طرح ہے۔

’اس کی وجہ سے ملازمتیں تباہ ہو رہی ہیں اور آگے بڑھنے کا عمل رک گیا ہے۔ ہر سال دنیا کی معیشت کو اربوں پاؤنڈز کا نقصان ہوتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کی وجہ سے غریب مزید غربت کے شکنجے میں جکڑتا جاتا ہے اور چونکہ حکومتیں اپنا پیسہ باہر بھیج دیتی ہیں اس لیے سخت محنت کرنے والوں کو محنت کے ثمرات اور اپنا حق نہیں ملتا۔‘

ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے نائجیریا اور افغانستان کو ’زبردست بدعنوان‘ قرار دینے کے متنازع بیان کے بعد اجلاس پہلے ہی کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

انھوں نے یہ بات بکنگھم پیلس میں ملکہ سے ملاقات کے دوران کہی تھی اور ان کے الفاظ کیمرے میں ریکارڈ کر لیے گئے تھے۔

بعد میں برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ان ممالک کے سربراہان ’اس مسلے سے نمٹنے کے لیے سخت جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں