اساتذہ کو تنخواہوں میں نقدی کی جگہ چوزے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اطلاعات کے مطابق ازبکستان کے شہر میں سکول کے اساتذہ کو تنخواہوں میں نقدی کی جگہ چوزے دیے جا رہے ہیں۔

امریکہ کے حمایت یافتہ ریڈیو اوزولک کے مطابق نوکس میں حکام خود مختار قراقل رپبلک کے بینکوں میں پیسوں کی کمی کی وجہ سے اساتذہ کو تنخواہوں میں چوزے دے رہے ہیں۔

ازبکستان کے ایک استاد نے اس فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ انھوں نے ریڈیو اوزولک کو بتایا ’گذشتہ سال ہمیں تنخواہوں کی جگہ آلو، گاجر اور کدو دیے گئے اور اس بار ہمیں چوزے لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں چوزوں کی ضرورت ہو گی تو ہم مارکیٹ سے سستے داموں میں خرید سکتے ہیں۔‘

ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے اساتذہ کو دیے جانے والے چوزوں کی قیمت ڈھائی ڈالر ہے جو مقامی مارکیٹ میں ریٹ سے دو گنا زیادہ قیمت ہے۔

ازبکستان کی میڈیا پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے اور مقامی افراد غیر ملکی میڈیا سے صرف نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ہی بات کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ازبکستان کو کئی سالوں سے نقدی کی قلت کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی میں شدید تاخیر ہوتی ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں سرکاری ملازمین نے شکایت کی تھی کہ بینکوں میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں دو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

ایک شخص کے خیال میں یہ صورتِ حال ’شرمناک اور بدعنوان حکام‘ کی وجہ سے ہے جبکہ ایک دوسرے شخص کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں یہ صورتِ حال مختلف ہے ۔

ایک اور شخص نے مذاق کرتے ہوئے کہا ’اس میں کیا غلط ہے؟ آپ کے پاس ناشتے کے لیے چوزے کا سوپ، دوپہر کے کھانے کے لیے فرائیڈ چکن اور رات کے کھانے کے لیے مرغی ہے۔‘