خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دنیا بھر میں 35 فیصد خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن مشرق وسطی کے دو ممالک میں خواتین اس کے خلاف لڑ رہی ہیں: ایک اپنے کھانے کی مدد سے اور دوسری اپنے مُکّے سے۔

اردن میں خواتین کی بڑی تعداد مارشل آرٹ کی ماہر لینا خلیفہ کی ’شی فائٹر‘ نامی سیلف ڈیفینس کلاسوں میں داخلہ لے رہی ہے جبکہ لبنان میں ثمر سفیر کے ’ممی میڈ‘ پروگرام کے تحت خواتین کو کیٹرنگ کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ مالی طور پر خودمختار بن سکیں۔

لینا خلیفہ کا کہنا ہے کہ ’میں جب جوان ہوئی تو دیکھا کہ خواتین کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتیں، اسی لیے میں چیزوں کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اردن میں تقریباً 60 سے 70 فیصد خواتین کو حراساں کیا جاتا ہے اور ان میں سے چند ہی پولیس میں رپورٹ کروانے جاتی ہیں کیونکہ انھیں خوف ہوتا ہے کہ ان خاندان والے اور خصوصاً ان کے شوہر کیسا ردعمل ظاہر کریں گے۔‘

عمان سے تعلق رکھنے والی لینا خلیفہ جنھیں تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ حاصل ہے، پرامید ہیں کہ وہ سیلف ڈیفنس کی کلاسوں کے ذریعے کلچر میں تبدیلی لائیں گی۔

کم سرمایہ ہونے کے باوجود انھوں نے اردن کے دارالحکومت عمان چار سال قبل ایک چھوٹا سا سٹوڈیو کھولا اور لینا کے فائٹنگ سکول میں اب تک 3500 کے قریب خواتین داخلہ لے چکی ہیں جبکہ اس کے اثرات ملک بھر میں دیکھے جا رہے ہیں جہاں 12 ہزار خواتین یہ چیلنج لینے کو تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’اردن میں تقریباً 60 سے 70 فیصد خواتین کو حراساں کیا جاتا ہے‘

یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ یہ ایک آسان سفر تھا۔ چند ماہ قبل ہی عمان میں ایک سرکاری سکول نے لینا کی جانب سے لڑکیوں کو مارشل آرٹ کی تربیت دینے کی پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ’اس سے وہ مزید پرتشدد بن جائیں گی۔‘

تاہم دیگر سکولوں نے ان کے تبدیلی کے خیال کا خیرمقدم کیا ہے۔

انھیں اس کاروبار سے ممبرشپ اور سٹوڈیو کے ذریعے منافع حاصل ہو رہا ہے لیکن خواتین کی خودمختاری کو پھیلانے کے لیے انھیں اب بھی غیر سرکاری تنظیموں جیسے بیرونی ذرائع سے ملنے والی فنڈنگ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

لینا اور وہ پراعتماد خواتین کے لیے، جن کی انھوں نے مدد کی ہے، یہ صرف آغاز ہے۔ ان کا اصل مقصد تو ’دنیا بھر میں ایک کروڑ خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔‘

ممی میڈ، لبنان

چار سال قبل لبنان کے 30 سالہ انجینئر ثمر سفیر نے کھانا پکانے اور کاروبار میں کم تجربہ ہونے کے باوجود فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ان دونوں عناصر کو استعمال میں لانے کا کوئی منصوبہ تیار کیا جائے جس کی مدد سے خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ان کے سماجی کاروبار کے ذریعے خواتین کو تربیت فراہم کی جاتی ہے

ان کے خاندان والے اس وقت متفق نہ تھے لیکن اب ہیں۔

اپنے بھائی کی مدد سے جو کہ ایک آرکیٹیکٹ ہیں ثمر نے اپنے 120 سالہ آبائی گھر کے تہہ خانے کو مرکزی کچن میں تبدیل کر دیا۔ جہاں اب خواتین کو تربیت فراہم کی جاتی ہے، ان کی توانائی کو کام میں لایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ کیٹرنگ کا کاروبار بھی چلاتے ہیں۔

’میں اور میرے دوست کرسمس کے موقع پر کئی ضرورت مند خاندانوں کی مدد تو کرتے تھے لیکن جب ہم ان سے دوبارہ رابطہ کرتے تو ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ اسی مقام پر آگئے ہیں جہاں انھیں خوارک اور کپڑوں کی ضرورت ہے۔‘

ثمر نے بتایا کہ ’اس بات سے ہمیں احساس ہوا کہ ہم کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو باقی رہے۔ کسی کو تیار چیز دینے سے بہتر ہے کہ انھیں چیز تیار کرنا سکھایا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اب تک ثمر اور ان کے ماہر شیف 80 خواتین کو تربیت دے چکے ہیں

لبنان میں 28 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر خواتین ہیں جنھیں سماجی، جسمانی اور مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ’ممی میڈ‘ اس صورتحال کو تبدیل کر رہا ہے۔

ممی میڈ خواتین کو غربت، مقامی تشدد اور کئی طرح کے مسائل سے جن میں تعلیم کی کمی بھی شامل ہے، بچنے کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر سرگرم اور مالی طور پرخود مختار بننے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

یہ تنظیم ’ہائبرڈ نظام‘ کے تحت کام کر رہی ہے۔ وہ اس طرح کہ کیٹرنگ سے حاصل ہونے والے منافع اور چندوں کی رقم سے دوبارہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے تاکہ تربیت حاصل کرنے والوں کو کامیاب مستقبل کے لیے تیار کیا جا سکے۔

اب تک ثمر اور ان کے ماہر شیف 80 خواتین کو تربیت دے چکے ہیں جن میں سے 50 نے ملازمت تلاش کر لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لبنان میں 28 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں

طرابلس کے غریب علاقہ جبلِ محسن کی 29 سالہ دینا السلمان ممی میڈ کی کامیاب کہانیوں میں سے ایک ہیں۔

دینا السلمان کا مکان آگ کی نذر ہو گیا تھا اور ان کے پاس اپنے گھر والوں کو پالنے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں جہاں سے آئی ہوں وہاں لوگ خواتین کے گھر سے باہر جا کر کام کرنے کے خیال کو صحیح نہیں سمجھتے۔ ان کے خیال میں خواتین کو گھر پہ رہنا چاہیے۔‘

’لیکن میں اب خوش ہوں کیونکہ میں اپنے بچوں اور خاندان والوں کو پالنے کے لیے کام کرنے کے قابل ہو گئی ہوں۔‘

اسی بارے میں