اہم حزب اللہ کمانڈر کے جنازے میں ہزاروں کی شرکت

تصویر کے کاپی رائٹ AFPHezbollah media office

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہزاروں افراد نے عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے اہم کمانڈر مصطفیٰ امین بدرالدین کے جنازے میں شرکت کی۔

حزب اللہ کے اہم کمانڈر مصطفیٰ امین بدرالدین دمشق کے ہوائی اڈے کے قریب ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں ایک رپورٹ جلد شائع کریں گے۔

خیال رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کے لیے لڑ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بیروت سے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے جنازے میں شرکت کی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ اس ہلاکت کا ذمہ وار اسرائیل کو ٹھہرا رہے ہیں۔ جنازے میں شامل ایک شخص نے کہا ’حزب اللہ میں بہت سے جاسوس موجود ہیں۔‘

تاہم ایک اور شخص کا کہنا تھا ’مصطفیٰ امین بدرالدین کے بغیر دولت اسلامیہ لبنان میں آ جائے گی۔‘

ذرائع ابلاغ کے مطابق مصطفیٰ بدر الدین کو جو کہ حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ کے بعد دوسرے اعلیٰ عہدیدار سمجھے جاتے تھے، شام میں اسرائیلی حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

تاہم حزب اللہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اسرائیل کا ذکر نہیں ہے۔

تاہم اسرائیل نے اب تک ان کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

حزب اللہ کے نائب رہنما شیخ قاسم سے جب پوچھا گیا کہ کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد اس دھماکے اور اس ذمہ داروں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصطفیٰ بدر الدین کو سنہ 2005 میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے اور انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کی جانب سے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات کے بعد سے پابندیوں کا سامنا تھا۔

55 سالہ بدرالدین ملٹری ونگ کے چیف عماد مغنیہ کے کزن اور بہنوئی تھے جو دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدرالدین سنہ 1982 کے بعد سے حزب اللہ کی جانب سے کیے جانے والے زیادہ تر آپریشنز کا حصہ رہے ہیں۔

حزب اللہ نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’عظیم جہادی لیڈر تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کے لیے لڑ رہی ہے

گذشتہ سال امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک بیان میں مصطفی بدرالدین پر لگائی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2011 سے شام میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کے ذمہ دار مصطفی بدرالدین تھے۔

مصطفیٰ بدر الدین کئی سالوں تک لبنان اور باہر سے اسرائیل کے خلاف آپریشنز کے ماسٹر مائنڈ رہے اور خفیہ طور پر کام کرنے کی وجہ سے عرب اور مغربی ممالک کی گرفت سے بچنے میں کامیاب رہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق بدرالدین شام میں بشار الاسد کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کے لیے ہونے والی ملاقاتوں میں خزب اللہ کے لیڈر سید حسن نصراللہ کے ساتھ ساتھ تھے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک شام کے تنازع میں 1200 کے قریب حزب اللہ کے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں