عراق: دولت اسلامیہ کے حملے میں’ریال میڈرڈ کے 12 مداح ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپینش لیگ لا لیگا نے صدر زیویئر تیبس میدرانو کی جانب سے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے

عراق کے شہر بلد میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ایک کیفے پر حملہ کر کے کم از کم 12 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

اس حملے میں اس کیفے کو نشانہ بنایا گیا جس میں سپینش لیگ کے کلب ریال میڈرڈ کے مداح اکثر جمع کوتے تھے۔

جمعے کو تین مسلح افراد نے شیعہ اکثریت والے شہر بلد کے الفرت کیفے میں مشین گنوں سے فائرنگ کی۔

حملہ آور فرار ہوگئے تاہم شیعہ ملیشیا کی جانب سے پیچھا کرنے پر ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے چار افراد ہلاک ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ہدف ملیشیا کے افراد تھے۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے ریال میڈرڈ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

تاہم ریال میڈرڈ کلب کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے مداحوں کے ایک کلب کے 16 اراکین کو حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

بیان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے کیفے کے باہر ایک مشتبہ حملہ آور کی جلی ہوئی لاش دیکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خبررساں ادارے روئٹرز کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے کیفے کے باہر ایک مشتبہ حملہ آور کی جلی ہوئی لاش دیکھی

روئٹرز کے نامہ نگار کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملے کے بعد ایک قریبی گھر میں ایک شخص کو چھپا ہوا پایا تھا اور اس کی جانب سے اقرار کیے جانے پر اسے زندہ جلا دیا گیا۔

سپینش لیگ لال لیگا نے صدر ژیویئر تیبس میدرانو کی جانب سے بھی اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ’دہشت گردی نے فٹبال کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

ریال میڈرڈ کا کہنا ہے کہ اس کے کھلاڑیوں سنیچر کو ڈیپورٹیوو لا کورنا کلب کے خلاف میچ میں علامی سیاہ پٹی بازو پر پہنیں گے۔

خیال رہے کہ بلد شہر دارالحکومت بغداد کے شمال میں 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جون 2014 میں دولت اسلامیہ نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

تاہم اس کے چند ماہ بعد عراقی سکیورٹی فورسز اور شیعہ ملیشیا نے یہ قبضہ چھڑوا لیا تھا۔

اسی بارے میں