حزب اللہ کمانڈر’جہادی گروہوں کے حملے میں ہلاک ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFPHezbollah media office
Image caption بدرالدین سنہ 1982 کے بعد سے حزب اللہ کی جانب سے کیے جانے والے زیادہ تر آپریشنز کا حصہ رہے

لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے مطابق شام میں جہادیوں کی جانب سے داغے گئے گولوں کے نتیجے میں اس کے اہم کمانڈر مصطفیٰ امین بدرالدین کی ہلاکت ہوئی۔

جمعے کو مصطفیٰ امین بدرالدین دمشق کے ہوائی اڈے کے قریب ہلاک ہوئے تھے اور حزب اللہ نے ابتدا میں اس واقعے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا تھا تاہم بعد میں تمنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں ایک رپورٹ جلد شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

٭ اہم حزب اللہ کمانڈر کے جنازے میں ہزاروں کی شرکت

ذرائع ابلاغ کے مطابق مصطفیٰ بدر الدین حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ کے بعد دوسرے اعلیٰ عہدیدار سمجھے جاتے تھے۔

حزب اللہ نے کسی تنظیم کا نام لیے بغیر ایک بیان میں کہا:’ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دمشق کے بین الاقوامی ایئر پورٹ کے نزدیک ہونے والے دھماکے اور اس کے نتیجے میں کمانڈر مصطفیٰ امین بدرالدین کی ہلاکت، علاقے میں موجود تکفیری گروہوں کی جانب سے گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ بدرالدین کی موت سے ہمارے عزم میں اضافہ ہو گا اور ہم ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف لڑتے رہیں گے اور انھیں شکست دیں گے۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مدیر سباسچین اشر کے مطابق حزب اللہ کے بیان میں مصطفیٰ امین بدرالدین کی ہلاکت کے بارے میں اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔

برطانیہ سے شام میں حقوق انسانی کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرئین آبررویٹری نے کہا ہے کہ علاقے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے گولہ باری کا واقعہ سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کے لیے لڑ رہی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہزاروں افراد نے مصطفیٰ امین بدرالدین کے جنازے میں شرکت کی۔

بیروت سے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے جنازے میں شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیروت میں مصطفیٰ بدرالدین کی نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

مصطفیٰ بدر الدین کو سنہ 2005 میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے اور انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کی جانب سے جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات کے بعد سے پابندیوں کا سامنا تھا۔

55 سالہ بدرالدین ملٹری ونگ کے چیف عماد مغنیہ کے کزن اور بہنوئی تھے جو دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدرالدین سنہ 1982 کے بعد سے حزب اللہ کی جانب سے کیے جانے والے زیادہ تر آپریشنز کا حصہ رہے ہیں۔

حزب اللہ کے مطابق وہ ’عظیم جہادی لیڈر تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی مدد کرنے کے لیے لڑ رہی ہے

گذشتہ سال امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک بیان میں مصطفی بدرالدین پر لگائی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ سنہ 2011 سے شام میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کے ذمہ دار مصطفی بدرالدین تھے۔

مصطفیٰ بدر الدین کئی سالوں تک لبنان اور باہر سے اسرائیل کے خلاف آپریشنز کے ماسٹر مائنڈ رہے اور خفیہ طور پر کام کرنے کی وجہ سے عرب اور مغربی ممالک کی گرفت سے بچنے میں کامیاب رہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق بدرالدین شام میں بشار الاسد کے ساتھ سٹریٹجک تعاون کے لیے ہونے والی ملاقاتوں میں حزب اللہ کے لیڈر سید حسن نصراللہ کے ساتھ ساتھ تھے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک شام کے تنازع میں 1200 کے قریب حزب اللہ کے جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں