ٹرانس جینڈر کومرضی کا ٹوائلٹ استعمال کرنےکی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ میں کبھی سکولوں کو خواجہ سراؤں کے حوالے سے اتنی سخت ہدایات نہیں دی گئیں

امریکہ میں ٹرانس جینڈر طلبا نے اوباما انتظامیہ کے جانب سے سرکاری سکولوں میں خواجہ سراؤں کو اپنی جنسی شناخت کے مطابق بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت دینے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم کچھ علاقوں کے سکولوں کا کہنا ہے وہ اس سرکاری حکم نامے پر عمل نہیں کریں گے۔

جمعے کو حکومت نے ملک کے تمام سرکاری سکولوں کو ایک مراسلے جاری کیا تھا جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ ٹرانس جینڈر طلبا کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہیں انھیں ٹوائلٹ اور کپڑے تبدیل کرنے کے لیے الگ کمرے مہیا کیے جائیں۔

ریاست کیلیفورنیا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’ٹرانس جینڈر لا سینٹر‘ کی قانونی مشیر الونا ٹرنر کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے اس مراسلے سے پہلے امریکہ میں کبھی سکولوں کو خواجہ سراؤں کے حوالے سے اتنی سخت ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔

مراسلے میں سکولوں سے کہا گیا ہے کہ ’ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹرانس جینڈر طلبا کے ساتھ مناسب سلوک کریں اور تعصب سے پرہیز کریں۔‘

’یہ ایک ایسا حکم ہے جسے عدالتیں نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔‘

امریکی ادارہ برائے تعلیم و انصاف کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس مراسلے کے بعد امریکہ میں مساوی حقوق اور نجی معاملات کے درمیان توازن کے حوالے سے بحث میں شدت آ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنسی شناخت کا معاملہ جنسی تعصب کے انسداد کے قوانین میں شامل ہونا چاہیے: مرکزی حکومت

جمعے کو اباما انتظامیہ کے اس حکم نے رپبلکن پارٹی کے حامیوں کو پریشان کر دیا کہ سرکاری سکولوں میں ٹرانس جینڈر طلبا کو بلا روک ٹوک اپنی مرضی کے مطابق مرادنہ یا زنانہ بیت الخلا استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس حوالے سے اب یہ بحث بھی زور پکڑ جائے گی کہ نئی سرکاری ہدایات پر عمل در آمد کے لیے رقم اور وسائل مرکزی حکومت فراہم کرے گی یا نہیں اور اس معاملے میں قانونی سازی ریاست کی سطح پر ہوگی یا مرکزی سطح پر۔

جن افراد نے نئے سرکاری حکم نامے کو سراہا ہے ان میں گیون گرم کا نام نمایاں ہے جو خود ٹرانس جینڈر ہیں۔ اس سال اپریل میں عدالت نے ان کی اس اپیل پر ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ورجینیا ہائی سکول کے طالبعلم گیون گرم نے اپیل میں مطالبہ کیا تھا کہ انھیں اپنی مرضی کے (مردانہ) ٹوائلٹ استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

انھوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’ اس حکومتی ہدایت کے بعد میری زندگی بہت بہتر ہو جائے گی۔‘

امریکہ میں ٹرانس جینڈر افراد کے حوالے سے فیڈرل گورنمنٹ کا موقف یہ ہے کہ کسی شخص کی جنسی شناخت کا معاملہ جنسی تعصب کے انسداد کے قوانین میں شامل ہونا چاہیے۔

جمعے کو جاری کیے جانے والی ہدایات اس سلسلے میں سرکاری سطح پر بھیجے جانے والے واضح ترین احکامات ہیں۔

اسی بارے میں