’سیاست میں جنسی ہراس پر مزید خاموشی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سابق وزیرِ ثقافت فلوئیر پیریلن بھی بیان دینے والی سابق وزرا میں شامل ہیں

فرانس کی سابق 17 خواتین وزرا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاست میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کے بارے میں اب وہ خاموش نہیں رہیں گی۔

مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والی ان سابق وزرا کے بقول سیاسی میں آنے کے بعد انھیں مردوں کی جانب سے تعصب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سیاست ایک زمانے میں صرف مردوں تک محدود تھی۔

خواتین سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اب ان رویوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کے بقول اس شعبے سے وابستہ کچھ مردوں کو اپنی ذہنیت اور رویہ بدلنے کی ضرورت ہے اور موجودہ قوانین پر عمل بے حد ضروری ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں فرانس کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیک رپر ایک خاتون اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے انھیں جنسی طور پر حراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جس کے بعد ڈپٹی سپیکر ڈینس بوپین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے پارلیمنٹ کے سامنے خواتین جنسی طور پر حراساں کرنے کے واقعات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواتین اراکین پارلیمنٹ نے بتایا تھا کہ ڈپٹی سپیکر ڈینس بوپین نے ایک خاتون رکن کو نامناسب طریقے سے ہاتھ لگایا تھا جبکہ کئی دیگر خواتین اراکین کو انھوں نے فحش پیغامات بھیجے تھے۔

دوسری جانب ڈینس بوپین کے وکیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ میرے موکل ان خواتین کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کریں۔

الزامات کے سامنے آنے کے بعد پارلیمنٹ کے صدر نے ڈینس بوپین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈینس پر الزام لگانے والی ایک رکن کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے ان کے ساتھ دست درازی کی تھی اور زبردستی انھیں بوسہ دینے کی کوشش کی تھی۔

دیگر خواتین کے بقول انھیں ڈینس نے فحش پیغامات بھیجے تھے اور ان کے سامنے فحش حرکات کی تھیں۔

اسی بارے میں