عراقی گیس پلانٹ پر دولتِ اسلامیہ کے خودکش بمباروں کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملہ آوروں نے کارخانے میں گیس کے تین ذخیروں کو نذرِ آتش بھی کر دیا

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے قریب گیس کی فیکٹری پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خودکش بمباروں کے حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق اتوار کی صبح بغداد کے شمال میں 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تاجی میں واقع کارخانے کے داخلی دروازے کو تین کاروں میں سوار خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔

اس حملے کے بعد چھ حملہ آور جنھوں نے خودکش جیکٹیں پہن رکھی ہیں کارخانے میں داخل ہوگئے اور وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے ان کی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حکام کے بقول ہلاک ہونے والوں میں گیس فیکٹری میں کام کرنے والے اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

عراقی فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے کارخانے میں گیس کے تین ذخیروں کو نذرِ آتش بھی کر دیا تاہم اب صورتحال قابو میں ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار سباسچیئن اشر کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں دولتِ اسلامیہ کو عراق اور شام میں کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن بغداد کے اتنے قریب حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق کے مغربی اور شمالی بڑے حصے پر قابض ہے اور اس نے حال ہی میں بغداد میں کئی حملے بھی کیے ہیں۔

رواں سال اب تک ہونے والا سب سے بڑا حملہ گذشتہ بدھ کو بغداد کے شیعہ آبادی والے علاقے میں ہوا جس کے نتیجے میں 93 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں