پناہ گزین بچوں کے لیے نئے منصوبے کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ detlef rohde
Image caption سیو دا چلڈرن کے مطابق پناہ گزین بچے بڑی تعداد میں سکول سے دور ہیں

بچوں کے لیے کام کرنے والے عالمی فلاحی ادارے سیو دا چلڈرن نے پناہ گزین بچوں کے سکول جانے کو یقینی بنانے کے لیے وسیع بین الاقوامی عہد کی اپیل کی ہے۔

ادارے کی نئی رپورٹ ’اے نیو ڈیل فار رفیوجیز‘ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بچہ ایک ماہ سے زیادہ سکول کے باہر نہ رہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب بڑی تعداد میں لوگ جنگ اور تکالیف کے سبب نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی خصوصی ایلچی اور اداکارہ اینجلینا جولی پٹ پیر کو پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’وسیع رسپانس‘ کی اپیل کرنے والی ہیں۔

اینجلینا جولی کے علاوہ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی6 کے سابق سربراہ رچرڈ ڈیئرلو بی بی سی کے سپیشل کوریج کے تحت بات کریں گے۔ اس خصوصی پیشکش میں تاريخ کی سب سے بڑی نقل مکانی کے اس دور میں ہماری دنیا کی کیسی شکل تیار ہو رہی ہے پر بات ہوگی۔

Image caption ادار کا منصوبہ ہے کہ پناہ گزینوں کے تمام بچے سکول سے ایک ماہ سے زیادہ مدت تک دور نہ رہیں

بی بی سی نیوز پر نقل مکانی اور اس سے ہونے والے اثرات پر مبنی ایک دن کا خصوصی پروگرام ’ورلڈ آن دا موو‘ کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے جس میں اینجلینا جولی سمیت کئی اہم شخصیات بات کریں گی۔

بی بی سی نیوز ویب سائٹ پر اسے براہ راست پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ہائی کمیشنر فلپو گرانڈی نے پناہ گزینوں کے بحران پر عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے باربار اپیل کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی ذمہ داری وسیع پیمانے پر لی جانی چاہیے کیونکہ یہ صرف چند ممالک کی ذمہ داری نہیں ہے جو کہ لاکھوں پناہ گزینوں کو پناہ دے رہے ہیں یا پھر سات آٹھ ڈونر ممالک تمام تر امداد فراہم کریں۔

Image caption بی بی سی نیوز پناہ گزینوں پر ایک دن کا خصوصی پروگرام پیش کر رہی ہے

انھوں نے ’باز آبادکاری کے بہادرانہ اقدام‘ کی بات کے ساتھ یہ بھی کہا کہ گذشتہ سال ’دنیا بھر کے دو کروڑ پناہ گزینوں میں سے ایک فی صد سے بھی کم پناہ گزینوں کو کسی نئے ملک میں آباد کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کسی ملک کے لیے پناہ گزینوں پر صرف اپنی سرحدیں بند کرنا اور انھیں واپس کرنا ہی کافی نہیں کیونکہ ان کے مطابق آج دنیا میں نقل مکانی زیادہ مضبوط ہے اور ان طریقوں سے انھیں نہیں روکا جا سکتا ہے۔‘

لوگ آج جنتی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نقل مکانی کرنے والوں بچے بھی شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کو سکول چھوڑنا پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اداکارہ ایجلینا جولی ایک پناہ گزین کیمپ میں

سیو دا چلڈرن کے مطابق چار میں سے ابھی صرف ایک پناہ گزین بچے کا نام ثانوی سکول میں ہے۔ ادارے نے حکومتوں اور امدادی ایجنسیوں سے نئی پالیسی اپنانے کی اپیل کی ہے تاکہ کوئی بھی پناہ گزین بچہ سکول سے ایک ماہ سے زیادہ مدت تک دور نہ رہے۔

یہ حوصلہ مندانہ ہدف ہے لیکن نقل مکانی کے بحران سے یہ تشویش پیدا ہو رہی ہے کہ ایک گم شدہ نسل تیار ہو رہی ہے جس کا مطلب زیادہ عدم تحفظ اور غربت کے حالات ہیں۔

اینجلینا جولی پیر کو اس نقل مکانی سے نمٹنے کے لیے مختلف سطح پر مضبوط اقدام کی اپیل کریں گی اور ان کے مطابق یہ نقل مکانی ’ہماری صدی کا چیلنج ہے۔‘

اسی بارے میں