مسلح شخص گرفتار، وائٹ ہاؤس کا لاک ڈاؤن ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکرٹ سروس ایجنٹ نے وائٹ ہاؤس کے مغربی حصے کی سکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب ایک مسلح افراد کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے مسلح شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا تاہم اب وائٹ ہاؤس کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

پولیس نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ سکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب اس مسلح شخص نے اپنا ہتھیار لہرایا جس پر سیکر سروس ایجنٹ نے اس کو گولی مار دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا ہے اس وقت امریکی صدر براک اوباما وائٹ ہاؤس میں نہیں تھے۔

براک اوباما اس وقت میری لینڈ میں تھے۔

تاہم نائب صدر جو بائیڈن اس وقت وائٹ ہاؤس ہی میں موجود تھے۔

واضح رہے کہحالیہ برسوں میں وائٹ ہاوس کے قریب ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق میں جنگ میں حصہ لینے والے فوجی عمر گونزالز 2014 میں وائٹ ہاؤس کی باڑ پھلانگ کر اندر داخل ہوا اور ہاتھ میں چاقو لیے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

پچھلے سال ایک اور شخص جوزف کپوتو نے بھی وائٹ ہاؤس کی باڑ کو عبور کیا۔

سنہ 2011 میں آسکر اورٹیگا نے وائٹ ہاؤس پر گولی چلائی اور اس پر صدر براک اوباما یا سٹاف ممبر کو قتل کرنے کی کوشش کا فرد جرم عائد کیا۔

اورٹیگا کا کہنا تھا کہ اس کو خدا نے ذاتی مشن دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس پر حملہ کرے۔