اپنے ’مہربانوں‘ سے بیزار لڑکیاں

Image caption ٹوئٹر پر کچھ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ آپ مہربانوں کی مدد کے بغیر بھی بہت کچھ حاصل کر سکتی ہیں

آپ نے شاید انسٹاگرام پر ’خوش قسمت‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لڑکیوں کی تصاویر دیکھیں ہو جن میں وہ بڑے فخر کے اپنے گھر والوں کے ساتھ خریداری اور سیر سپاٹا کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن اب جنوبی افریقہ میں ’خوش قسمت‘ یا ’بلیسڈ‘ کا لفظ نہ صرف بُرا سمجھا جانے لگا ہے بلکہ کچھ تو اسے ایک لعنت سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ہوا یوں کہ جب کچھ لڑکیوں نے انسٹاگرام پر ’خوش قسمت‘ کے لفظ کے ساتھ اپنی ہنستی مسکراتی تصاویر اور اپنی نئی شاپنگ کی ڈینگیں ماریں تو لوگوں نے پوچھا کہ وہ ’مہربان‘ کون ہے جو انھیں ہر روز نئی نئی چیزیں خریدنے کے لیے پیسے دے رہا ہے۔

جلد ہی ’مہربان‘ کا لفظ بڑی عمر کے ان لوگوں کے لیے استعمال ہونے لگا جو لڑکیوں کی خواہشات پورا کرنے کے بدلے میں ان سے جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ ایسے مردوں کو ’شُوگر ڈیڈی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران جنوبی افریقہ میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر ’مہربان‘ کا لفظ اتنا زیادہ استعمال کیا گیا کہ اب یہ ایک مذاق بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ ’اب اگر کوئی لڑکی چھینک بھی مارے تو لوگ اس خطرے سے اسے ’بلیس یو‘ نہیں کہتے کہ کہیں لڑکی یہ نہ سمجھے کہ آپ کا اشارہ کسی بڑی عمر کے مرد کے ساتھ اس کی تعلقات کی طرف ہے۔‘

Image caption انٹساگرام پر کچھ صارفین نے ان تحفوں کی تصویر بھی لگائی جو کچھ ’مہربان‘ آپ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں

مذاق اپنی جگہ، ’مہربان یا شفیق‘ کے الفاظ سے یہاں ایک نہایت سنجیدہ بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور لوگ بڑی عمر کے مردوں کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو بہلالنے پُھسلانے کی پرانی روایت پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ٹوئٹر پر ’مہربان مخالف‘ یا اینٹی بلیسرز کے ہیش ٹیگ کے تحت لکھی جانے والی بے شمار ٹویٹس ہیں۔ ان ٹویٹس میں لوگ ’مہربان‘ مردوں اور ان لڑکیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو اس قسم کی ’مہربانیوں‘ پر خوش ہوتی ہیں۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ’اصل مرد وہ ہے جو لڑکیوں کو خریدے نہ‘۔ کالج سے حال ہی میں تعلیم مکمل کرنے والی لڑکی نے اپنی گریجوئشن کی تصویر کے نیچے لکھا کہ ’جب دوسری نوجوان خواتین اپنے مہربانوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں، ہم لوگ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔‘

اگرچہ آپ پر ’مہربان‘ ہونے والا شخص کسی بھی عمر کا مرد بھی ہو سکتا اور خاتون بھی، لیکن اس حالیہ مہم کا نشانہ زیادہ تر بڑی عمر کے مرد ہیں۔

یو ٹیوب پر وڈیو بلاگ پوسٹ کرنے والی ایک خاتون نے ’مہربان ہماری زندگی تباہ کر رہے ہیں‘ کے عنوان کے تحت اپنے بلاگ میں اس فکرمندی کا اظہار کیا ہے کہ تیرہ سال کی کم عمر لڑکیاں بھی سکول سے گھر آتے ہوئے سہیلیوں سے اپنے اپنے ’مہربانوں‘ کے بارے میں باتیں کرتی رہتی ہیں۔

Image caption ’مہربانوں‘ اور ان کی ’عنایات‘ کی درجہ بندی

جنوبی افریقہ میں یہ مسئلہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ملک کے وزیر صحت نے گزشتہ ہفتے ایڈز کے خلاف ایک مہم کا آغاز کرتے ہوئے ان اقدامات کا خصوصی طور پر ذکر کیا جن کا مقصد 15 سے 24 برس کی لڑکیوں کو بڑی عمر کے مردوں سے تعلقات کے برے اثرات سے بچانا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر آرون موتساؤلدی کا کہنا تھا کہ 15 سے 24 سال کی لڑکیوں میں ایچ آئی وی کے مرض کا تناسب دیگر عمر کی خواتین کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ یقیناً اس کی ایک وجہ ان لڑکیوں کے بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں۔

وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ بڑی عمر کے ’مہربان‘ مردوں کے لیے غریب گھرانوں کی لڑکیوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں ایسے مردوں کا آسانی سے نشانہ بن جاتی ہیں جن کے ماں باپ خود ایڈز کے ہاتھوں مر چکے ہوتے ہیں۔

’اگرچہ یہ بات اہم ہے کہ آپ پر کون مہربان ہو رہا ہے، تاہم یہ بھی اہم ہے کہ آپ کی تربیت کون کر رہا ہے اور آپ ہر روز کس سے بات کر رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں