مصری سیاحت کی صنعت کےلیے مشکل وقت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں ہر سال تقریباً 15 ملین سیاح مصر جاتے تھے

مصر کی ہوائی کمپنی ایجپٹ ایئر کی پرواز ایم ایس 804 کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ کچھ بھی ہو ایک بات تو یقینی ہے کہ اس حادثے کی بعد مصر کی سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوگی۔

مصر کی معیشت میں سیاحت کی صنعت کا کردار بہت اہم ہے۔

لیکن حالیہ عرصے میں مغرب سے تعلق رکھنے والے سیاحوں پر ہونے والے حملوں اور مصر کے ہمسائیہ ملک لیبیا میں شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے سیاح اب مصر جانے سے گھبراتے ہیں۔

سنہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے سے قبل سیاحت سے ہونے والی آمدن تقریباً 13 ارب ڈالر تھی اور ہر دس میں سے ایک شخص کا روز گار اس صنعت سے منسلک تھا۔

حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں ہر سال تقریباً 15 ملین سیاح مصر جاتے تھے۔

سیاحوں میں اہرامِ مصر اور شرم الشیخ جیسے سیاحتی مقام بہت مقبول تھے۔

لیکن اب صورتحال کافی مختلف ہے بیشتر مغربی حکومتوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو مصر کا غیر ضروری سفر نہ کرنے کا کہا جاتا ہے۔

Image caption مصر کے سیاحتی مقامات لوگوں کے لیے بہت باعثِ کشش ہیں

اس کی وجہ حال ہی میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والا روسی طیارہ اور سیاحتی مقام ہرگہدہ میں شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے سیاحوں پر ہونا والا حملہ شامل ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کہ بقول ’ دہشت گرد مصر میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور مزید حملوں کا امکان ہے۔‘

برطانیہ کی بورن متھ یورنیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی امور اور سیاحت کے ماہر ڈاکٹر یگنیح مورکباتی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ اس بات سے قطح نظر کہ مصری طیارہ دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے یا کسی فنی خرابی کے باعث گرا ہے، مصر کی معیشت اس سے بری طرح متاثر ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر یہ حادثہ فنی خرابی کے باعث بھی پش آیا ہو تو لوگ مصر کو مورودِ الزام ٹھرائیں گے اور کہیں گے کہ مصری نااہل ہیں۔‘

اس صورتحال میں یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ مصر جانے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

سنہ 2013 تک اس میں ایک تہائی کمی دیکھنے میں آئی اور ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد 10 ملین تھی اور گذشتہ برس سیاحت سے ہونے والی آمدنی 13 ارب سے کم ہو کی صرف تقریباً چھ ارب رہ گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصری حکام ملک میں سیاحتی مقامات کی سکیورٹی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

اس ساری صورتحال میں مزید ابتری آسکتی ہے کیونکہ بین الاقوامی سیاحتی کمپنیاں کسی قسم کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ مصر کے بجائے اب دیگر محفوظ سمجھے جانے والے سیاحتی مقامات کی تشہیر کر رہی ہیں۔

مصری حکام صورتحال کی سنگینی سے آشنا ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ملک میں سیاحوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

مصر کے وزیرِ سیاحت کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سیاحتی مقامات پر بہت سے نئے سکیورٹی آلات نصب کیے ہیں اور مزید بھی کر یں گے۔‘

مصر کے حکام اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کا ملک سیاحوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ لیکن سیاحوں کو مصر واپس لانے کے لیے قائل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

برطانوی سیاحتی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ بگز گینگ کے بقول ’مصر کی سیاحت کی صنعت میں دوبارہ بہتری آسکتی ہے لیکن اس میں کافی وقت لگے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طرح کی مثالیں ماضی میں بھی موجود ہیں اور ہمیں اندازہ ہے کہ مصر کے سیاحتی مقامات لوگوں کے لیے بہت باعثِ کشش ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سیاح دوبارہ وہاں کا رخ کریں گے لیکن مسقبل قریب میں اس کی امید نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں