مصری طیارے کے ’بلیک بکس‘ کی تلاش کے لیے آبدوز روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر کے صدر کے بقول یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔

مصر کی حکومت نے ایجپٹ ایئر لائن کے تباہ ہونے والے طیارے میں نصب ڈیٹا ریکارڈر کی تلاش کے لیے بحیرۂ روم میں اپنی ایک آبدوز کو روانہ کیا ہے۔

بحیرۂ روم میں طیارہ تباہ ہونے کے بعد سے اپنے پہلے بیان میں مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ ’ہم دونوں باکس کی تلاش کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔‘

عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ جمعرات کو بحیرۂ روم میں ایجپٹ ایئر کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات میں ایک لمبا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن جوں ہی حادثے کے محرکات کا پتہ چلے گا تمام تفصیلات کو منظرِ عام پر لایا جائے گا۔

ایجپٹ ایئر کی پرواز ایم ایس 804 پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے یونان کے جزیرے کیرپاتھوس کے قریب لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس میں 66 افراد سوار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Egyptian military spokespersons Facebook page
Image caption بحیرہ روم میں تباہ ہونے والی فلائٹ کا ملبہ برآمد ہوا ہے لیکن ابھی تک بلیک باکس کا پتہ نہیں چل پایا ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مصر کے صدر نے اتوار کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’طیارہ گرنے کے تمام محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابھی حادثے کی وجہ واضح نہیں ہے۔‘

لیکن اس سے قبل شہری ہوا بازي کے وزیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طیارہ تباہ ہونے کی وجہ تکنیکی خرابی کے بجائے دہشت گردی زیادہ لگتی ہے۔

صدر سیسی کا کہنا تھا کہ ’اس بات سے قطح نظر کہ تحقیاقات میں کتنا وقت لگتا ہے کوئی بھی اس طرح کی معلومات کو چھپایا نہیں سکتا، ہم لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں گے۔‘

مصر کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔‘

خیال رہے کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ طیارے کو حادثہ کیوں پیش آیا تاہم اس سے قبل حادثے کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے سے قبل طیارے کے کیبن سے دھوئیں کے الرٹ ملے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایوی ایشن ہیرلڈ کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ کے مطابق طیارے کا سگنل منقطع ہونے سے چند منٹ قبل ٹوائیلٹ اور طیارے کے بجلی کے نظام میں دھوئیں کا پتہ چلا تھا۔

ایوی ایشن ہیرلڈ نے کہا تھا کہ انھیں ایئرکرافٹ کمیونیکیشن ایڈریسنگ اینڈ رپورٹنگ سسٹم (اے سی اے آر ایس) کے ذریعے تین آزاد ذرائع سے یہ تفصیلات ملی ہیں جن کے مطابق ایئر بس اے 320 کے ٹوائیلٹ میں دھواں دیکھا گیا جس کے ایک منٹ بعد دھوئیں کا الرٹ جاری کیا گیا۔

اگرچہ مصری صدر اور تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی حادثے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا لیکن طیارے کو پیش آنے والے حادثے بارے میں مصر کی سول ایوی ایشن کے وزیر نے کہا تھا کہ ’تکنیکی خرابی سے زیادہ دہشت گردی کا ممکنہ خطرہ زیادہ ہے۔‘

اسی بارے میں