شام کے دو شہروں میں متعدد دھماکے، 78 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام میں سرکاری میڈیا کے مطابق دو ساحلی شہروں میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں کم از کم 78 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کے مطابق طرطوس اور جبلہ میں ہونے والے دھماکوں میں سے کئی خودکش حملے تھے۔ یہ دووں شہر حکومت کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ دھماکوں کا نشانہ بننے والے دونوں شہر شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط گڑھ ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکوں میں مسافروں سے بھرے بس سٹیشنوں اور ایک ہسپتال کو ہدف بنایا گیا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک نیوز ایجنسی کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے یہ حملے کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق طرطوس میں کم از کم ایک پیدل خودکش حملہ آور اور کار میں سوار ایک خودکش حملہ آور نے بس اڈے پر حملہ کیا۔

میڈیا کے مطابق ایک خود کش بمبار نے جبلہ نیشنل ہسپتال کے ایمرجنسی کے شعبے کے داخلی دروازے پر اپنے آپ کو اڑا دیا۔ ایک اور دھماکہ عمارہ کے رہائشی علاقے کے مضافات میں جبلہ کے اہم بجلی کے شعبے کی عمارت کے نزدیک ہوا۔

طرطوس میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہو گئے ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی صعنا کے مطابق طرطوس کے شمال میں واقع جبلہ شہر کے بس اڈے کے داخلی راستے پر متعدد راکٹ داغے گئے۔

جبکہ دی سیرئین آبزرویٹری ہار ہیومن رائٹس کے مطابق جبلہ میں 53 جبکہ طرطوس میں 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ .

ابھی تک شام میں ہونے والی پانچ سالہ خانہ جنگی میں طرطوس اور جبلہ بچے ہوئے تھے۔ اس خانہ جنگی میں ابھی تک دو لاکھ 50 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ طرطوس میں روس کا بحیری اڈہ بھی ہے اور حالیہ ماہ میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے روس کی فضائی مدد سے ملک کے کئی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اسی بارے میں