ترکی میں پہلی انسان دوست سربراہ کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ میں انسانیت دوست امور کے نائب سیکریٹری جنرل سٹیفن او برائن نے کانفرنس کو نادر موقعے سے تعبیر کیا

ترکی کے شہر استنبول میں پہلی عالمی انسانیت دوست سربراہ کانفرنس پیر سے شروع ہو رہی ہے جس میں جنگوں اور ماحولیات کی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے پر غور کیا جائے گا۔

یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ذریعے منعقد کی جا رہی ہے جس میں 60 سے زیادہ ممالک کے سرابراہان مملکت، فلاحی ادارے اور دوسرے افراد شرکت کر رہے ہیں۔

* ترکی پناہ گزینوں کو’زبردستی واپس شام‘ بھیج رہا ہے

* یورپ بددیانتی کا مرتکب ہو رہا ہے: ایمنیسٹی

اس میں بحران کی صورت حال میں مالی تعاون اور ان کی بہتر تقسیم پر غور و فکر کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا چھ کروڑ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ ساڑھے 12 کروڑ افراد کو تعاون اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

ترکی جو کہ اس کانفرنس کا میزبان ہے اس کے صدر رجب طیب اردوغان نے عالمی تعاون کے نظام کو ’شکشتہ نظام‘ سے تعبیر کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈیئن میں لکھتے ہوئے اردوغان نے کہا کہ ’شام میں جاری جنگ کے نتائج کو بھگتنے کے لیے ترکی اور اس کے پڑوسی ممالک کو تنہا چھوڑ دیا گیا جبکہ دنیا نے شام کے صدر بشار الاسد کے جرائم سے چشم پوشی کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption تقریبا چھ کروڑ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

رجب طیب اردوغان نے پناہ گزینوں کے بوجھ کو مل جل کر اٹھانے کے نئے طریقۂ کار وضع کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ شام میں جاری جنگ کی وجہ سے 27 لاکھ پناہ گزین ترکی میں ہیں۔

خیال رہے کہ شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جب کہ لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر دیے جانے والے حقیقی مالی تعاون اور مالی وعدوں کے درمیان تقریبا 15 ارب ڈالر کا سالانہ فرق ہے۔

سربراہی اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کے اہلکار نے کہا ہے کہ یہ کانفرنس کسی بحران پر نئے زاویے سے غور کرنے کا نادر موقع فراہم کرے گی جس میں کسی بحران کی اصلی وجوہات سے نمٹنے کی کوشش کی جائے گی نہ کہ صرف بحران سے پیدا شدہ نتائج پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ HURRIYET.COM.TR
Image caption اردوگان نے شام کے بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرائي

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ میں انسانیت دوست امور کے نائب سیکریٹری جنرل سٹیفن او برائن نے کہا: ’یہ ایک نسل میں ایک بار ملنے والے موقعے میں سے جس میں ہم دنیا کے سب سے کمزور افراد کے دکھ دور کرنے اور انھیں دکھوں سے بچانے کے اپنے طریقے کو دور رس ایجنڈے اور حوصلہ مندانہ منصوبے کے تحت عملی جامہ پہنائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ديگر کانفرنسوں سے علیحدہ ہے کیونکہ اس میں کسی مالی تعاون کا وعدہ شامل نہیں ہے بلکہ اس میں بحران سے نمٹنے کی جامع حکمت عملی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں