یونان میں پناہ گزینوں کا ایڈمینی کیمپ خالی ہونا شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یونان میں حکام نے ملک کے شمال میں مقدونیہ کی سرحد کے قریب ہزاروں پناہ گزینوں کے کیمپ ایڈمینی کو خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔

کیمپ کو خالی کرانے کا آپریشن منگل کی صبح شروع کیا جبکہ عینی شاہدین کے مطابق کیمپ کے باہر پولیس کی گاڑیاں اور بسیں کھڑی ہیں تاکہ پناہ گزینوں کو دیگر بہتر سہولیات کے حامل مراکز میں منتقل کیا جا سکے۔

٭ پناہ گزین کیمپ میں خوشی کے آنسو

بلوا پولیس کو بھی تعینات کیا گیا ہے تاہم حکام کے مطابق طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

یہ کیمپ جنوری میں مقدونیہ کی سرحد بند ہونے کے بعد قائم ہوا تھا اور یہاں اس وقت آٹھ ہزار کے قریب پناہ گزین مقیم ہیں۔

یہاں قیام پذیر پناہ گزینوں کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے اور انھوں نے کیمپ کے مخدوش حالات کے باوجود اسے خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پناہ گزینوں نے یونانی حکام کی جانب سے کیمپ کو خالی کرنے کی اپیلیں مسترد کرتے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں دیگر منظم کیمپوں میں منتقل ہونے کی صورت میں وہ مقدونیہ کی سرحد سے دور ہو جائیں گے۔

منگل کی صبح تک کم از کم چار بسوں میں پناہ گزینوں کو کیمپ سے روانہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔

حکام نے صحافیوں کو کیمپ میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے اور آپریشن کی ہیلی کاپٹر کی مدد سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

کیمپ میں موجود شامی پناہ گزین ریزان نے بی بی سی کو بتایا کہ’ وہ مارچ سے اس کیمپ میں موجود ہیں اور وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں، لیکن اگر جانا پڑا تو چھوڑ دیں گے، میں نے اپنا بیگ تیار کر لیا ہے، اگر انھوں نے طاقت کا استعمال نہیں کیا تو یہاں ہی رہیں گے لیکن اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو وہ کیمپ سے چلے جائیں گے کیونکہ وہ یہاں کسی سے لڑنے نہیں آئے، میں شام سے اس لیے بھاگا ہوں کہ میں کسی سے لڑنا نہیں چاہتا تھا۔‘

یونان میں دو دن پہلے ہی ججوں کا کہنا تھا کہ شام سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کو واپس ترکی نہیں بھیجنا چاہیے کیونکہ ترکی ان کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے معاہدے کے مطابق ایسے پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا جو یونان پہنچ کر یا تو پناہ کی درخواست نہیں دیتے یا پھر ان کی درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں