شام میں ہوائی اڈے پر حملہ، روسی ہیلی کاپٹر تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ stratfor
Image caption اسی روز دولتِ اسلامیہ نے ایک تصویر جاری کی جس میں اس کے جنگجو ٹی 4 بیس پر راکٹ داغ رہے ہیں

سیٹیلائیٹ تصاویر سے پتا چلا ہے کہ شام میں سٹریٹیجک اعتبار سے اہم اور روسی فورسز کے زیر استعمال اڈے کو ’دولتِ اسلامیہ‘ کی جانب سے حملے کے بعد شدید نقصان پہنچا ہے۔

انٹیلیجنس کمپنی سٹریٹفور کی جانب جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹی 4 بیس میں آگ لگنے سے چار ہیلی کاپٹرز اور 20 گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

* روس، شام میں نئی چڑھائی کو تیار ہے؟

روس کی حامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ’تباہ ہونے والے یہ ہیلی کاپٹرز روسی اور شامی دونوں فوجیں استعمال کرتی رہی ہیں۔‘

روس نے اس واقعے پر سرکاری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

روس میں حزبِ مخالف کی ایک ویب سائٹ نے شامی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’شام کی ٹی 4 بیس پر ایک ایندھن کے ٹینک کے پھٹنے کے بعد آگ پھیلی جس نے گاڑیوں اور قریب ہی موجود روسی ہیلی کاپٹرز کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔‘ تاہم آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Stratfor BBC Grab
Image caption ماضی میں دولتِ اسلامیہ نے اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اور اس کی ویڈیو میں بھی بنائی

یہ خبر دولتِ اسلامیہ سے منسلک نیوز ایجنسی عمق نے پہلے رپورٹ کی لیکن اس نے بھی آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی۔

اسی روز دولتِ اسلامیہ نے ایک تصویر جاری کی جس میں اس کے جنگجو ٹی 4 بیس پر راکٹ داغ رہے ہیں۔

سٹریٹفور کے عسکری تجزیہ کار سِم ٹاک کا کہنا ہے کہ ’سب سے پہلے تو تصاویر سے لگتا ہے کہ یہ دھماکہ حادثاتی نہیں ہے۔‘

’ایسا لگتا ہے کہ ائیر پورٹ پر کئی طرح سے دھماکے ہوئے ہیں اور دکھائی دے رہا ہے کہ روسیوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔‘

ان کے بقول ’ہیلی کاپٹروں کی ایک پوری جنگی یونٹ تباہ ہوئی ہے۔اس کے علاوہ اڈے پر کھڑے شامی جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ‘

ان کے خیال میں یہاں ایندھن کے ذخیرے اور ہیلی کاپٹرز کو دولتِ اسلامیہ نے ہی تباہ کیا ہے تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اس تباہی کی ذمہ داری قبول کیوں نہیں کی۔

ماضی میں دولتِ اسلامیہ نے اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اس کی ویڈیو میں بھی بنائی۔

سیم ٹاک کہتے ہیں کہ ’اس حملے کے سلسلے میں ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ حتی کے بیان جاری کر کے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔‘

ٹاک کے بقول ’ایسا امکان بہت کم ہے کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ ہو۔‘

اسی بارے میں