شام: دولتِ اسلامیہ کے خلاف رقہ میں مہم کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کے حمایت یافتہ اتحاد میں شامل شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شہر رقہ سے بے دخل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنے 30,000 جنگجؤں کو بھی اس مہم کے لیے تعینات کیا ہے۔

٭ دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ پر حملہ شروع

* ’غیر ملکی ریاستیں شام میں دھماکوں کی ذمہ دار ہیں‘

* شام کے دو شہروں میں متعدد دھماکے، 78 ہلاک

٭ اعلیٰ امریکی کمانڈر کا خفیہ دورۂ شام

٭ شامی شہر ديرالزور میں ہسپتال پر دولتِ اسلامیہ کا حملہ

امریکہ کی قیادت میں اتحادی جنگی طیارے اس حملے کی حمایت کریں گے جسے روس کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔

ایس ڈی ایف نے سنہ 2014 سے شام اور عراق میں قائم کی گئی ’دولت اسلامیہ‘ کی خود ساختہ ’خلافت‘ کے دارالخلافے کی حیثیت رکھنے والے شہر رقہ کو واپس لینے کے لیے کسی منوبہ بندی کا ذکر نہیں کیا ہے۔

امریکہ کے حمایت یافتہ اتحاد میں شامل کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) جوگذشتہ دو سالوں کے دوران ایک اہم اتحادی کے طور پر ابھرا ہے بھی شام کے شمال میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کی قیادت کر رہا ہے۔

وائی پی جی نے امریکی کی فضائی طاقت کی مدد سے اس علاقے کے26,000 مربع کلومیٹر علاقے کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کو منگل کو ترکی کے سرحد کی جانب جاتے دیکھا گیا۔

ایس ڈی ایف کی ایک کمانڈر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ نئے حملے کا مقصد ’شمالی رقہ‘ کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد ہماری شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنجگو اس حملے کے لیے پہلے ہی تیار ہیں اور وہ کھدائی کر رہے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے سرنگوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی بنا رکھا ہے۔

اسی بارے میں