’غیر ملکی ریاستیں شام میں دھماکوں کی ذمہ دار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA SANA

شام کی حکومت نے دو ساحلی شہروں طرطوس اور جبلہ میں ہونے والے دھماکوں کا الزام ترکی، قطر اور سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صعنا کے مطابق حملوں کا مقصد امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کرنا تھا۔

٭ شام کے دو شہروں میں متعدد دھماکے، 78 ہلاک

٭ شامی شہر ديرالزور میں ہسپتال پر دولتِ اسلامیہ کا حملہ

شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق ان بم دھماکوں میں کم از کم 78 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایک مانیٹرنگ گروپ نے ہلاکتوں کی تعداد 145 سے زائد بتائی ہے۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ دھماکوں کا نشانہ بننے والے دونوں شہر شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط گڑھ ہیں اور ابھی تک یہ خانہ جنگی شدید ترین حالات سے بچے رہے ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں جن میں ان دھماکوں کی مذمت کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption طرطوس میں روس کا ایک جنگی بیڑہ ٹھہرا ہوا ہے

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان بم دھماکوں کے پیچھے ریاض، انقرہ اور دوحہ کے انتہا پسند اور کینہ پرور حکومتیں ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی، قطر اور سعودی عرب شام میں موجود مختلف باغی افواج کی حمایت کرتے ہیں تاہم یہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق چند منٹوں کے درمیان طرطوس اور اس کے مزید شمال جبلہ میں سات مربوط بم دھماکے ہوئے۔

صعنا کے مطابق طرطوس میں بس سٹینڈ گے پاس ایک کار بم دھماکہ ہوا اور جیسے ہی لوگ بچانے کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے دو خود کش حملہ آوروں خود کو دھماکوں سے اڑا لیا۔

اس کے چند منٹ بعد جبلہ کے بس سٹینڈ پر ایک کار دھماکہ ہوا جبکہ بس سٹینڈ، بجلی گھر اور ایک ہسپتال پر تین خود کش بمباروں نے حملہ کیا۔

ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ایک بمبار نے پہلے دھماکے کے متاثرین کی مدد کرتے ہوئے خود کو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں دھماکے سے اڑا لیا۔

صعنا کے مطابق جبلہ میں 45 افراد جبکہ طرطوس میں 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہیں۔

عماق نیوز ایجنسی کے مطابق دولت اسلامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’جنگجوؤں نے علویوں کے اجتماع پر حملہ کیا ہے‘۔ خیال رہے کہ صدر اسد علوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں