’پاکستانی خودمختاری مقدم مگر، جنگ کرنے والے نشانے پر ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی جغرافیائی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہ ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو امریکی افواج کے خلاف براہِ راست حملوں کے منصوبے بناتے ہیں۔

یہ بات امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

٭ پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ، امریکی سفیر کی طلبی

٭ ملا منصور کی’ ہلاکت‘،سینیٹ میں تحریک التوا

٭ ملا منصور کی ہلاکت ایک اہم سنگِ میل ہے: براک اوباما

افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’ اس حملے کا بنیادی مقصد ایسے کسی بھی شخص کو راستے سے ہٹانا ہے جو خطے میں امریکہ اور افغان افواج کے خلاف شدت کے ساتھ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔‘

امریکی اور افغان حکام کے مطابق ملا منصور سنیچر کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ہونے والے ایک میزائل حملے میں مارے گئے تھے تاہم پاکستانی حکام تاحال اس بات کی تصدیق سے گریزاں ہیں کہ مرنے والا شخص ملا منصور ہی تھا۔

پاکستان نے اس حملے پر امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے اور اسے اپنی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی اور افغان حکام کے مطابق ملا منصور سنیچر کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ہونے والے ایک میزائل حملے میں مارے گئے تھے

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ ’ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقے میں ایک انفرادی شخصیت منصور پر براہ راست حملہ تھا۔ ہم یقیناً پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ ہم ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے جو امریکی افواج کے خلاف براہِ راست حملوں کے منصوبے بناتے اور اس کی ہدایت دیتے ہیں۔‘

امریکی اہلکار نے کہا کہ انھیں اس مقام کے بارے میں درست طریقے سے علم نہیں کہ ملا منصور کو پاکستان کی حدود میں کہاں نشانہ بنایا گیا۔

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ’حملے کی صحیح جگہ کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے تاہم صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ کہ حملہ سرحدی علاقے میں کیا گیا۔‘

مارک ٹونر سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کا جو پاسپورٹ برآمد ہوا وہ کسی اور کے نام کا تھا تو کیا ملا منصور ایران گئے تھے؟

اس پر ان کا کہنا تھا ’مجھے نہیں معلوم، میں نے ایسی خبریں دیکھی ہیں لیکن میں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں دے سکتا۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان سے اس سوال پر کہ کیا اس واقعہ سے طالبان پر کیا اثر پڑے گا تو انھوں نے کہا ’وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس حملے کے بعد طالبان کو شکست ہو گئی ہے تاہم یہ ان کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اگر وہ امریکی اور افغان افواج کے خلاف حملے کریں گے تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا اور انھیں محفوظ پناہ گاہیں نہیں ملیں گی۔‘

مارک ٹونر کے مطابق اس سے یہ پیغام بھی واضح ہوتا ہے کہ طالبان ہر صورت اس بات کا فیصلہ کریں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ اور یہ افغانستان کے لیے ایک پرامن، سیاسی مستقبل کا حصہ بننے کے لیے جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات شروع کر سکتے ہیں اور ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

اسی بارے میں