لائیبرمین اسرائیل کے وزیرِ دفاع نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے متنازع دائیں بازو کے سخت گیر سیاستدان اویدگور لائیبرمین اپنی سیاسی جماعت اسرائیل بیت نو کو ملک کے حکمران اتحاد میں لانے کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں۔

اس معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو پارلیمان میں ایک نشست کی برتری حاصل ہو گئی ہے جس کے بعد اویدگور لائیبرمین اسرائیل کے وزیرِ دفاع کے طور پر کام کریں گے۔

٭ اسرائیلی وزیر دفاع مستعفی، لائیبرمین کی حکومت میں ’واپسی‘

٭ ’نازی جرمنی کی علامتیں اسرائیل میں ملتی ہیں‘

اویدگور لائیبرمین نے ’ذمہ دار، معقول پالیسی‘ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اویدگور لائیبرمین سیاسی جماعت اسرائیل بیت نو کے رہنما ہیں جس کی پارلیان میں چھ نشتیں ہیں۔

اویدگور لائیبرمین ماضی میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ لائیبرمین فلسطینوں کے بارے میں اپنے سخت موقف کے لیے جانے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یالون نےگذشتہ جمعے کو اپنے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اسرائیل ’خطرناک اور انتہا پسند عناصر کے قبضے میں چلا گیا ہے۔‘

وزیر دفاع یالون نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا: ’میں نے وزیر اعظم کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے رویے اور ان پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے میں حکومت اور پارلیمان سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں اور سیاسی زندگی سے بھی رخصت لے رہا ہوں۔‘

وزیر اعظم نتن یاہو اور وزیر دفاع موشے یالون کے مابین نائب چیف آف آرمی سٹاف کے ایک بیان کے بعد اختلافات میں اضافہ ہوگیا تھا۔

وزیر دفاع موشے یالون نے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے اس بیان کا دفاع کیا تھا جس میں میجر جنرل یائر گولان نے کہا تھا کہ اسرائیلی سماج میں نازی جرمنی میں سنہ 1930 کی دہائی میں ہونے والے واقعات جیسے رجحانات موجود ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے گذشتہ برس کہا تھا کہ وہ پارلیمان میں اپنی برتری کو وسیع کرنے کے لیے حکمران اتحاد میں چھٹی جماعت کو شامل کریں گے۔

بدھ کو ہونے والے معاہدے کے بعد بنیامن نیتن یاہو کا پارلیمان کی 120 نشستوں میں 67 نشستوں پر کنٹرول ہو جائے گا۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے پاس پارلیمان میں 61 نشستیں تھیں جس کی وجہ سے انھیں قانون سازی میں مشکلات کا سامنا تھا۔

اسی بارے میں