سعودی عرب مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کا کہنا ہے کہ 2030 تک سالانہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ جائے گی

جیسا کہ سعودی حکومت نے نئی اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ریاست کا تیل پر سے انحصار کم کرنا ہے۔ایک اور ذریعہ کو کہ سعودی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے وہ ہے مذہبی سیاحت۔

حکام حاجیوں کے لیے ویزوں پر سے پابندیوں میں نرمی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ مکہ سے مدینہ سفر کرنے والے افراد وہاں مزید رک سکیں گے اور غیر مذہبی ثقافتی شہروں اور مقامات کا دورہ بھی کر سکیں گے۔

سیاحت کی صنعت اس وقت سعودی عرب کی کل قومی پیداوار کا 2.7 فیصد پیدا کر رہی ہے جس میں زیادہ تر تعداد مذہبی سیاحوں کی ہے۔

حج جو کہ اسلامی سال کے آخری مہینے میں ادا کیا جاتا ہے کہ ساتھ ساتھ عمرہ جو کہ کسی بھی ماہ میں ادا کیا جا سکتا ہے سے سالانہ 12 ارب ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔

کونسل فار اکنامک اینڈ ڈیویلپمنٹ افیئرز کے مطابق اس آمدن کو آئندہ چار سالوں کے دوران 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے منصوبہ سازی کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد پر سے سفری پابندیاں کم کی جا سکتی ہیں

کونسل کے خیال میں مذہبی سیاح جو کہ عمرہ کرنے آتے ہیں ان کی تعداد رواں برس سے سنہ 2020 تک 80 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ ہو جائے گی جبکہ یہی تعداد بڑھ کر سنہ 2030 تک تین کروڑ ہو جائے گی۔

اس وقت مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے آنے والے افراد کے ویزوں پر سخت نگرانی کی جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں کب اور کہاں سفر کر سکتے ہیں، لیکن حکام ان پابندیوں میں نرمی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

سعودی سیاحت و ثقافت کمیشن کے سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان کا کہنا ہے کہ ’ہم مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے آنے والے افراد کو ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بعد انھیں قدیم مقامات جیسے کہ مدینہ کے قریب واقع مدائن صالح تک لے جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Richard Duebel
Image caption نئے منصوبوں کی وجہ سے سعودی عرب آنے والے سیاحوں میں اضافہ ہو سکتا ہے

’تاہم سعودی عرب میں ایسے دیگر مقامات بھی ہیں جہاں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں اور وہ سعودی عرب کے دیگر مقامات کا دورہ بھی کرنا چاہیں گے۔‘

ایک بڑا تعمیراتی منصوبہ جس میں مکہ کو مدینہ، جدہ اور دیگر بڑے شہروں کو آپس میں جوڑنے والی ٹرین شامل ہے پر پہلے سے ہی کام ہو رہا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائکل پیٹراگلیا جو کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم کے سربراہ ہیں کا کہنا ہے کہ ’یہاں ایسے درجنوں مقامات ہیں جن میں جبہ، نجران اور شووائمس شامل ہیں بڑے پیمانے پر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Richard Duebel
Image caption نیا ریلوے منصوبہ مکہ، مدینہ، جدہ اور دیگر شہروں کو آپس میں جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا

ان کا کہنا ہے کہ ’یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل چار مقامات سعودی عرب میں ہیں جبکہ دیگر مقامات کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔‘

بااثر سعودی آرٹ کونسل کے رکن محمد حافظ کا کہنا ہے کہ ’ثقافتی اقدامات معیشت میں زبردست اضافہ کر سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’بعض واقعات کی وجہ سے ہمارا بنیادی مقصد جو کہ سعود عرب کے لوگوں کو آرٹ سے روشناس کروانا ہے ماند پڑ گیا تھا۔‘

’لیکن اب آرٹ ہر منصوبے میں شامل ہے، چاہے جدہ کا نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہو یا جدہ کی پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ چلتی سڑک پر بین الاقوامی فن تعمیر کا استعمال کرنا ہو۔‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کو مصر سے جوڑنے والی پل کے منصوبے کے اعلان کے بعد سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Richard Duebel
Image caption نباتائن چٹان کے مقبرے ان آثار قدیمہ میں سے ایک ہیں جو کہ عام لوگوں کے لیے کھلی ہے

اسی بارے میں