’انتہا پسندانہ انداز کی وجہ غیر شادی شدہ ہونا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تائیوان کی نو منتخب صدر نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ تائیوان کی نو منتخب رہنما ٹسائی انگ وین کا ’انتہا پسندانہ انداز‘ ہے کیونکہ وہ غیر شادی شدہ ہیں۔

اس اداریے کے بعد سوشل میڈیا پر کافی غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پر شائع ہونے والے ذاتی تبصرے میں کہا گیا ہے کہ مس ٹسائی پر خاندان کی کوئی ’جذباتی پابندی‘ نہیں ہے جس کی وجہ سے اُن کے انداز میں ’غیر مستقل مزاجی‘ ہے۔

چین میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ استعمال کرنے والوں نے مس ٹسائی کے حق میں ٹویٹس کی ہیں۔

ٹسائی انگ وین نے گذشتہ ہفتے صدارت کا حلف لیا تھا اور وہ ملک کی پہلی خاتون صدر ہیں۔

اُن کی جماعت ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی نے جنوری میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تائیوان میں یہ انتخابات بیجنگ نواز صدر کی حکومت ختم ہونے کے بعد ہوئے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی میں شائع ہونے والے مضمون میں زیادہ تر بات مس ٹسائی کے غیر شادی شدہ ہونے پر کی گئی۔ یہ مضمون چین کے سینیئر افسر وینگ ویکسنگ نے لکھا ہے۔

گو کہ یہ مضمون اب ژینوا ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے لیکن نیوز ویب سائٹس اور مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ پر یہ موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

چین کی فوج کے سینیئر افسر وینگ نے ٹسائی کو انتہا پسند سیاسی انداز کے فروغ سے متعارف کروایا ہے۔

مضمون کے مطابق ’بطور غیر شادی شدہ خاتون سیاستدان ٹسائی انگ وین پر خاندان یا بچوں کی محبت کا جذباتی دباؤ نہیں ہے۔ اس لیے اُن کی سیاست میں ترجیحات زیادہ جذباتی، انتہائی اور ذاتی انداز نمایاں ہے۔‘

اسی وجہ سے اُن کا غیر مستقل مزاج اُن کی سیاست پر حاوی ہے اور مضمون میں انھیں تجویز دی گئی ہے کہ وہ تائیوان کے لیے طویل مدتی اہداف مقرر کرنے کے بجائے ان اُمور پر غور کریں۔

تائیوان کی صدر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی دفتر نے اس مضمون پر کوئی ’ردعمل‘ جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب چینی زبان کی سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس مضمون پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور مائیکر بلاگنگ ویب سائٹس پر اسے کئی مرتبہ شیئر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں