انڈونیشیا میں بچوں سے جنسی زیادتی پر سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماٹرا میں ایک سکول کی لڑکی کے قتل کے واقعے کے بعد لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے

انڈونیشیا میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کو دی جانے والی سزاؤں کو مزید سخت بناتے ہوئے ان میں جبری نس بندی اور سزائے موت کو شامل کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ حال ہی میں ایک 14 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل سمیت دیگر واقعات پر پائے جانے والے شدید عوامی غم و غصے کے بعد کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو کا کہنا ہے کہ یہ قانون ’بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔‘

اس سے قبل کسی بھی نوجوان یا بچے کے ساتھ ریپ کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید تھی۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب افراد کو جیل سے رہا ہونے کے بعد الیکٹرانک نگرانی کے آلات بھی پہننے ہوں گے۔

سماٹرا میں ایک سکول کی طالبہ کے قتل کے واقعے کے بعد لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

اس کے بعد کئی دیگر جنسی حملوں کی خبریں بھی سامنے آئیں جن میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گینگ ریپ اور بینٹین صوبے کی18 سالہ فیکٹری ملازمہ کا قتل بھی شامل ہے۔

ہنگامی صدارتی حکم نامے کے مطابق یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہو گا لیکن پارلیمان بعد میں کسی بھی وقت اسے منسوخ بھی کر سکتی ہے۔

صدر جوکو وڈوڈو کا کہنا ہے کہ ’اتنے بڑے جرم پر غیرمعمولی ردعمل کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں