انڈیا: اطالوی فوجی کو وطن واپس جانے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لتوری اور ان کے ساتھ فوجی سلواتوری گیرونی پر دو بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے دو انڈین ماہی گيروں کے قتل کے معاملے میں دوسرے اطالوی فوجی سلواتری جرون کو بعض شرائط کے ساتھ اٹلی جانے کی اجازت دے دی ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق جرون نے ضمانت کی شرائط میں رعایت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور انڈیا کی حکومت نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

سپریم کورٹ نے شرط رکھی ہے کہ اطالوی سفیر کو عدالت میں ایک تازہ حلف نامہ دائر کرنا ہو گا کہ اگر اس بارے میں بین الاقوامی عدالت میں چلنے والا مقدمہ انڈیا کے حق میں جاتا ہے تو جرون کو انڈیا واپس لوٹنا ہو گا۔

لیکن ریاست کیرالہ، جہاں فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا تھا، کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجين نے سپریم کورٹ میں انڈین حکومت کے موقف پر اعتراض کرتے ہوئے اور کہا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ایجنسیوں کے مطابق انھوں نے کہا کہ ایسا مرکزی حکومت کے رویے کی وجہ سے ہوا ہے اور مرکز شروع ہی سے ایسا چاہتا تھا۔

چند ماہ پہلے ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت کے ایک ٹریبیونل نے حکم دیا تھا کہ جب تک اس سلسلے میں کوئی حمتی فیصلہ نہیں آ جاتا اس وقت تک اطالوی بحریہ کے فوجیوں کو ان کے وطن بھیج دیا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دو اطالوی مرينز پر 2012 میں ریاست کیرالہ کے ساحل سے کچھ فاصلے پر دو انڈین ماہی گیروں پر گولی چلانے اور انھیں قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اطالوی بحریہ کے دونوں فوجیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر گولی چلائی تھی۔

اس معاملے میں ایک اطالوی میسلمينو لاتور کو صحت کی خرابی کی وجہ سے پہلے ہی اٹلی بھیجا چکا ہے۔ لیکن انڈیا نے دوسرے فوجی کو بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کیس کے باعث اٹلی اور انڈیا کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آيا تھا اس لیے انڈیا کو ان پر مقدمہ چلانے کا قانونی حق نہیں ہے۔

لیکن انڈیا اس دعوے کو غلط بتاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں