خام تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیل کی قیمتیں اگست 2014 تک 70 فیصد تک بڑھ گئی تھیں تاہم اس کے بعد یہ 27 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں

تیل کی پیدوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے بعد سال 2016 میں پہلی مرتبہ خام تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایشیائی ممالک میں برینٹ خام تیل کی قیمت 50.07 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والے آگ کے سبب امریکہ کے تیل کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔

چار ممالک کا تیل کی پیداوار نہ بڑھانے پر اتفاق

یاد رہے کہ رواں سال برینٹ خام تیل 28 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا تھا جو گذشتہ 13 سال کی کم ترین قیمت ہے، لیکن اب اس میں تقریباًً 80 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

رواں ماہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کے درمیان قطر میں ہونے والے اجلاس میں تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کے فیصلے سے بھی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کی زیادہ پیداوار کے باوجود قلیل مدت کے لیے رسد میں ہونے والی کمی نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

چین، انڈیا اور روس جیسی بڑی معیشتوں میں تیل کی پیداوار بڑھنے کا امکان ہے۔

اقتصادی تھنک ٹینک گولڈمین سیکس نے کہا تھا کہ سنہ 2016 کے اختتام پر خام تیل 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گا جب کہ سنہ 2017 میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک ہو گی۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد آئل کمپنیاں بھی اپنی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہیں۔

برٹش پیٹرولیئم کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 میں تیل کی قیمت 50 سے 55 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہو گی۔

تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچنے کے بعد امریکی کمپنی پاینیئر نیچرل ریسورسز نے تیل کے دس نئے کنویں کھودنے کا اعلان کیا تھا۔

آئل مارکیٹ کے تجزیہ کار ابھیشک دیش پانڈے اس بات پر متفق ہیں کہ ’مارکیٹ اوپر جا رہی ہے لیکن اگر یہ بہت تیزی سے اوپر گئی تو اس میں کمی بھی واقع ہو گی۔‘

اسی بارے میں