’کیا خواتین کے خلاف شرعی قانون غلط استعمال تو نہیں ہو رہا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس جائزے کا اعلان گذشتہ سال حکومت کے انسداد شدت پسندی اقدامات کے تحت کیا گیا تھا

برطانوی سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک آزاد جائزے سے یہ امر ثابت کیا جائے کہ کیا انگلینڈ اور ویلز میں شرعی قوانین خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے لیے استعمال تو نہیں کیے جا رہے۔

سیکریٹری داخلہ تھیریسا مے کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا شرعی قانون برطانوی قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور کیا ان کا ’غلط استعمال‘ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ شرعی کونسلز زبردستی کی شادی اور خواتین کو غیر مناسب طلاقوں کو ’قانونی درجہ‘ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ جائزہ آئندہ سال مکمل کیا جائے گا۔

اس جائزے کی سربراہی اسلامی تعلیمات کی ماہر پروفیسر مونا صدیقی کریں گی۔

اس جائزے کا اعلان گذشتہ سال حکومت کے انسداد شدت پسندی کے اقدامات کے تحت کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں گذشتہ چند برسوں میں شرعی قوانین کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمان تنازعوں کے حل کے لیے ہرسال شرعی کونسلوں سے رجوع کرتے ہیں۔

ان کونسلوں کو برطانیہ میں قانونی اختیارات حاصل نہیں اور وہ صرف سول معاملات سے متعلق ہیں۔

Image caption تھیریسا مے کا کہنا تھا کہ کچھ شرعی کونسلیں زبردستی کی شادی اور خواتین کو غیرمناسب طلاقوں کو ’قانونی درجہ‘ دینے کی کوشش کر رہی ہیں

تاہم سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ شرعی کونسلز ’امتیازی اور ناقابل قبول انداز میں‘ کام کی مرتکب ہوسکتی ہیں۔

پروفیسر مونا صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ ’وسیع، بر وقت اور جامع جائزہ‘ ہوگا جو بتائے گا کہ ‘شرعی کونسلوں میں دراصل کیا ہوتا ہے۔‘

جائزہ پینل میں فیملی لا بیرسٹر سیم ممتاز، ریٹائرڈ جج سر مارک ہیڈلی اور خاندانی معاملات کے ماہر وکیل این میری ہچنسن شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ دو مذہبی ماہرین امام سید علی عباس رضوی اور امام قاری عاصم کی مشاورت بھی شامل ہو گی۔

اسی بارے میں