ہیرو شیما کی یاد کو دھندلا نہ ہونے دیں: اوباما

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی صدر براک اوباما دوسری جنگ عظیم میں ایٹمی بم حملے کا نشانہ بننے والے جاپان کے شہر ہیروشیما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں۔

ہیروشیما پہنچنے پر صدر اوباما نے کہا کہ چھ اگست سنہ 1945 کی یادیں کبھی فراموش نہیں جانی چاہییں، لیکن انھوں نے دنیا میں پہلے اور واحد ایٹمی حملے پر جاپان کے عوام سے معافی نہیں مانگی۔

صدر اوباما نے ایٹمی بم حملے کے کئی متاثرین سے بات چیت کی اور اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششیں کریں۔

ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے سے چشم زدن میں ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے دو دن بعد ناگاساکی پر دوسرا بم گرائے جانے سے 74 ہزار افراد مار گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کی میزبانی میں صدر براک اوباما نے ایٹمی بم حملے کی یادگار ہیروشیما پیس میموریل کا دورہ کیا اور اس کے بعد ’ہیروشیما پیس میموریل پارک‘ بھی گئے۔

دونوں رہنما کچھ دیر پیس میموریل پارک میں اس شعلے کے سامنے کھڑے رہے جو اس انسانی تاریخ کے اس اندوہناک ترین واقعے کی یاد میں جلایا گیا تھا اور جسے ’ایٹرنل فلیم‘ یا ہمیشہ دہکتے رہنے والا شعلہ کہا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس یادگار پر پھول بھی چڑھائے۔

صدر اوباما نے کہا کہ آسمان سے موت اتری اور دنیا بدل گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایٹمی بم حملے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانیت کو خود کو تباہ کرنے کی صلاحیت اور ذرائع رکھتی ہے۔

ہیروشیما کی یادوں کو کبھی فراموش نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری اخلاقیات کو زندہ رکھنے اور بدلنے پر مجبور کرتی ہیں۔‘

جوہری ہتھیاروں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’ہم میں یہ جرات ہونی چاہیے کہ ہم خوف کی منطق سے چھٹکارا حاصل کر سکیں اور ایک ایسی دنیا کے لیے کوشش کریں جو جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو۔‘

ہیروشیما کے دورے سے قبل صدر اوباما نے ایواکونی مرین کور کے اڈے کا دورہ بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بحری اڈے پر فوجیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے۔

صدر اوباما نے جاپان اور امریکہ کے مضبوط تعلقات کے بارے میں کہا کہ دنیا بھر میں جاپان امریکہ کا سب سے مضبوط اور قریبی اتحادی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا دورہ اس بات کا غماز ہے کہ اختلافات کتنے ہی تکلیف دہ اور گہرے کیوں نہ ہوں انھیں ختم کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہ ماضی میں ایک دوسرے کے حریف کسی طرح ایک دوسرے کے قریب آئے اور آج بہترین دوست اور مضبوط ترین اتحادی ہیں۔

ہیروشیما میں موجود بی بی سی کے نمائندے جان سڈورتھ نے کہا کہ اوباما نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس حملے کی معافی نہیں مانگی جائے گی لیکن کچھ ہی لوگ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ اس دورے کی انتہائی گہری علامتی حیثیت تھی۔

اوباما اس ملک کے سربراہ ہیں جو ایٹم بم استعمال کرنے والا واحد ملک ہے اور انھوں نے اس یاد گار پر پھول چڑھائے جو اس ایٹمی دور کی ہولناکی کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکہ میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ایٹم بم حملے کا فیصلہ درست تھا کیونکہ اس نے جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور اس سے دوسری جنگ عظیم کو ختم کرنے میں مدد ملی۔

اس حملے میں بچ جانے والی ایک شخص کی بیٹی نے کہا کہ اس سے حملے کی تباہ کاری سے کئی نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔

58 سالہ ہن جیونگ سون نے کہا کہ ’میں صدر اوباما کو بتانا چاہتی تھی کہ وہ ہماری تکلیفوں کو سمجھ سکیں۔‘

سیکی ساتو جن کے والد ایٹم بم حملے میں یتیم ہو گئے تھے، انھوں نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جاپانیوں نے تمام ایشیا میں بہت تباہی مچائی۔ اور یہ سچ ہے۔ ہم جاپانیوں کو اس پر معافی مانگی چاہیے کیونکہ ہم شرمندہ ہیں اور ہم نے ان تمام ایشیائی ملکوں سے صدق دل سے معافی نہیں مانگی۔ لیکن ایٹم بم گرایا جانا تو بالکل شیطانی حرکت تھی۔‘

اسی بارے میں