’کسی لبرل ڈیموکریٹ کےطالبان رہنما بننےکی توقع نہ تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کو نہیں لگتا کہ افغانستان میں شدت پسند مستقبل قریب میں مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے اور توقع ہے کہ وہ پرتشدد ایجنڈا جاری رکھیں گے۔

صدر اوباما نے یہ بات جاپان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی جہاں وہ جی سیون گروپ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

٭ ’امن مذاکرات کی بحالی کی یقین دہانی نہیں کروا سکتے‘

٭ ملا ہبت اللہ کون؟

٭ ’امن یا سنگین نتائج‘، افغان حکومت کا طالبان رہنما کو پیغام

صدر اوباما نے متنبہ کیا کہ افغانستان میں طالبان پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ ’ہمیں توقع ہے کہ طالبان پرتشدد ایجنڈا جاری رکھیں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکی ڈرون نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں افغان طالبان کے امیر ملا منصور ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغان طالبان نے ایک باضابطہ بیان میں اپنے امیر ملا محمد اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب مولوي ہبت اللہ اخوندزادہ کو نیا رہنما مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مولوي ہبت اللہ اخوندزادہ کا امیر مقرر کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے اعتراف کیا کہ طالبان میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہو گا جو مذاکرات کا حامی ہو۔

’میں اس کی توقع نہیں کر رہا تھا کہ کوئی لبرل ڈیموکریٹ (امیر) مقرر ہوگا۔ مجھے توقع نہیں لیکن امید ہے کہ ایک وقت آئے گا جب طالبان کو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ ان کو کیا کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ ایسا مستقبل قریب میں ہو گا۔‘

یاد رہے کہ افغان طالبان نے مولوي ہبت اللہ اخوندزادہ کے امیر مقرر ہونے کے بعد امن مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں باضابطہ طور پربیان جاری نہیں کیا ہے۔

مولوي ہبت اللہ اخوندزادہ کی تقرری کے بعد افغانستان کی حکومت نے کہا تھا کہ جنگ ختم کریں یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔

افغان حکومت کی جانب سے یہ پیغام صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے ٹویٹ کے ذریعے دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFGHAN ISLAMIC PRESS VIA AP

سید ظفر ہاشمی نے ٹویٹ میں کہا تھا ’نئی صورت حال طالبان گروہوں کے لیے پرتشدد کارروائیاں بند کرنے اور پرامن زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ہے ورنہ ان کا بھی وہی حال ہوگا جو ان کے رہنما کا ہوا ہے۔‘

دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے افغان امن عمل شدید متاثر ہوا ہے۔

مشیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی ڈرون حملے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد یہ یقین دہانی نہیں کروائی جاسکتی کہ افغان امن عمل کے لیے مذاکرات دوبارہ کب شروع ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ملا اختر منصور افغان عمل کے حامی تھے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ افغانستان میں مصالحت کے لیے چار ممالک کے گروپ کے اجلاس میں اُن کے حمایتی شریک ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ 18 مئی کو چار ملکی مذاکرات میں طے پایا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے سٹیک ہولڈروں کے ساتھ سیاسی بات چیت کو اہمیت دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں کیونکہ گذشتہ 15 سال سے اس علاقے میں جنگ جاری ہے لیکن امن ابھی تک قائم نہیں ہوا۔

اسی بارے میں