’طالبان کے پاس مصالحت اور امن کے علاوہ راستہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ طالبان کی نئی قیادت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ بات چیت دوبارہ سے شروع کر سکتے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے سابق رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت سے طالبان کو یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اُن کے پاس مصالحت اور امن کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ میں معمول کی بریفنگ کے دوران ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے مصالحتی عمل کی حمایت کرتا ہے لیکن طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کو نشانہ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف افغانستان میں امریکی اور افغان افواج پر حملے کر رہے تھے بلکہ افغان مصالحتی عمل جاری رکھنے میں زیادہ فعال کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔

٭ ’امن یا سنگین نتائج‘، افغان حکومت کا طالبان رہنما کو پیغام

٭ ’افغان طالبان کا پاکستان سے مجبوری کا رشتہ مزید مجروح‘

افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور گذشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ماریں گئے تھے اور افغان طالبان نے مولوي ہبت اللہ اخونزاد کو نیا رہنما مقرر کیا ہے۔

امریکہ نے افغان طالبان کے نئے رہنما مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کو قیام امن کے مذاکرات کی میز پر آنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔

واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ طالبان کی نئی قیادت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ بات چیت دوبارہ سے شروع کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ افغان حکومت کی قیادت میں امن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور ہمارے لیے سود مند یہی ہیں۔ امریکہ اس سلسلے کو آگے بڑھانے میں طالبان کی نئی قیادت کا خیر مقدم کرے گا۔‘

مارک ٹونر نے کہا کہ ’ملا منصور افغان فورسز اور امریکی افواج پر مہلک حملے کر رہے تھے اور وہ امریکہ کے لیے واضح طور پر ایک خطرہ تھے اس لیے انھیں نشانہ بنایا گیا لیکن ہم پر امید ہیں کہ طالبان کو اس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اُن کے پاس مصالحت اور امن کی واحد آپشن موجود ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت سے افغانستان میں مصالحتی عمل کو نقصان پہنچا ہے اور اب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی یقین دہانی نہیں کروائی جا سکتی ہے۔

اس سوال کے جواب پر کہ اگر امریکہ کو کسی سے بھی خطرہ محسوس ہوا تو وہ اُسے مارنا جائز ہے؟ ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ کے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس حملے کرنے کا حق موجود ہے۔

ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ اپنی سر زمین پر موجود ہر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی اُن پر زور دیا ہے اور آئندہ بھی اصرار کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں