آسٹریلیا: بچوں نے اساتذہ کو بھاگنے پر مجبور کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Other

آسٹریلیا کے صوبے کوینز لینڈ کے ایک دور افتادہ علاقے میں سکول کے بچوں کے مسلسل حملوں کے بعد ان کے اساتذہ کو امدای اداروں نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وہاں سے نکالا ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ گاڑیاں چھینی جانا، بچوں کا کلہاڑیوں اور خنجروں سے لیس ہونا اور پھر استادوں کی حفاظت کے لیے ان کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے انخلا۔

یہ مناظر آسٹریلیا کے زیادہ تر قصبوں میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔

لیکن کوینز لینڈ کے دور افتادہ علاقے کیپ یارک کے اوروکن کے قدیم قصبے میں یہ واقعات عام ہیں۔

بدھ کو اوروکن پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر کی گاڑی دو ہفتوں میں دوسری بار چھین لی گئی اور رات کو بچوں نے ان کے مکان پر پتھراؤ کیا۔

پہلی بار کار چھینے جانے کے واقعے کے بعد اساتذہ کو علاقے سے نکال لیا گیا۔ وہ اس ہفتے کے شروع میں واپس اس علاقے میں آئے تھے لیکن دوسری بار کار چھینے جانے کے بعد اساتذہ کا دوبارہ انخلا کرایا گیا اور اب علاقے کا پرائمری سکول جولائی تک بند کر دیا گیا ہے۔

اس کمیونٹی میں ایسا اس کی پرتشدد تاریخ، شراب، منشیات، بٹے ہوئے خاندان اور پانچ قبیلوں کی آپس کی لڑائیوں کا نتیجہ ہیں۔

اوروکن کے رہائشی اور کمیونٹی سپورٹ کارکنان کا کہنا ہے کہ علاقے کے زیادہ تر لوگ تقریباً 30 بچوں اور نوجوانوں کی جانب سے اس قسم کی کارروائیوں کے باعث کافی پریشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

لیکن جس بات پر مقامی لوگوں کو اس سے زیادہ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ حکومت اساتذہ کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ اوروکن پولیس بھی ان بچوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔

تاہم سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایکشن اس لیے نہیں لیا کہ قبائل کے پیچیدہ تعلقات کے باعث اگر پولیس ایکشن لیتی ہے تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔

اس کمیونٹی کی عمر رسیدہ خواتین کے ایک گروپ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلیا میں تین میں سے ایک ہیڈ ٹیچر پر حملے کیے گئے ہیں لیکن ان کے سکول بند نہیں کیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ’آسٹریلیا میں کہیں بھی ایسے حملوں کے بعد سکول بند نہیں کیے جاتے لیکن اس علاقے میں کیے جاتے ہیں کیونکہ پولیس گنے چنے بچوں کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

اسی بارے میں