دولت اسلامیہ کے خلاف فلوجہ میں عراقی فوج کی پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو فلوجہ سے نکالنے کے لیے کی جانے والی پیش قدمی میں عراقی فورسز کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلوجہ کا قریبی گاؤں قرما جو کہ دولت اسلامیہ کا دفاعی علاقہ تھا اب عراقی فوج کے قبضے میں ہے۔

بغداد کے مغرب میں تقریباً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑی تعداد میں بہترین زمینی فوجی فلوجہ کے قریب تعینات کیے گئے ہیں۔

تاہم فلوجہ شہر کے شمال میں دولت اسلامیہ نے ایک کار بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بعض عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

قرما سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شہر کے جنوب میں کیے جانے والے حملے کو روکا گیا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابیاں ایک ایسے وقت میں حاصل ہو رہی ہیں جب امریکی اتحادی فوجوں نے چند روز قبل فلوجہ میں دولت اسلامیہ کے اہم کمانڈر مہر البلاوی سمیت درجنوں جنگجوؤں کو فضائی حملے میں ہلاک کیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق قرما مکمل طور پر حکومتی فورسز سمیت وفاقی پولیس کے قبضے میں ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے جو کہ اس لڑائی میں حصہ لے رہی ہے گاؤں میں عمارتوں کی دیواروں پر ’شکریہ ایران‘ لکھا ہے۔

تاہم قرما اس وقت مکمل طور پر اجڑ چکا ہے۔ کوئی ایک شہری بھی وہاں دکھائی نہیں دے رہا، دکانیں پوری طرح تباہ اور نذر آتش ہیں جبکہ بڑی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

فلوجہ شہر پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے کے لیے بڑی تعداد میں انسداد دہشت گردی کی بہترین فورس بلوا لی گئی ہیں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ شہر پر حملے کا آغاز کب کیا جائے گا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 ہزار عام شہری اب بھی فلوجہ میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں فضا سے پرچے پھینک کر دولت اسلامیہ کے علاقوں سے دور رہنے اور اپنی چھتوں پر سفید کپڑے ڈالنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں بعض ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لوگ بھوک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے سے انکار کرنے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں