یورپ میں آسمانی بجلی گرنے سےایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یورپ کے کئی ممالک میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی پولینڈ میں پہاڑی سے اترتے ہوئے آسمانی بجلی کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

پولینڈ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 40 سال کے قریب تھی اور وہ ملک کے جنوبی علاقے میں پہاڑی سے اتر رہے تھے جب وہ آسمانی بجلی کی زد میں آگئے۔ جبکہ اس کے علاوہ ایک اور شخص کی لاش دریا سے ملی ہے جن کا جسم تیز بارش کے باعث پھولا ہوا تھا۔

ماؤنٹین ریسکیو نے ٹی وی این 24 کو بتایا ہے کہ تین سیاحوں پر مشتمل ایک گروپ بھی آسمانی بجلی کی زد میں آیا ہے۔

پیرس میں پارک مانکیو میں سالگراہ کی ایک تقریب کے دوران بجلی گرنے سے 11 افراد زخمی ہوئے جن میں آٹھ بچےشامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب جرمنی میں بچوں کے ایک فٹبال میچ کے دوران بھی آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 35 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی افراد کو احتیاط کے طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔

پیرس میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد اس وقت زخمی ہوئے جب وہ ایک درخت کے نیچے چھپنے کی جگہ تلاش کر رہے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ’میچ کے آخری لمحات کے دوران جب آسمانی بجلی گری تو اس وقت آسمان پر گہرے بادل نہیں تھے بلکہ آسمان بالکل صاف تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی عمارت کو خالی کرایا گیا

میچ کے دوران شدید زخمی ہونے والے تین افراد میں ریفری بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کایزرسلاوترن کی پولیس کا کہنا ہے کہ ’انھیں آسمانی بجلی نے براہ راست نشانہ بنایا جس کے بعد ان کی حرکت قلب بند ہونے کے باعث انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال لے جایا گیا۔‘

پولیس نے بتایا کہ ان تینوں افراد کی عمریں 40 سال کے قریب ہیں۔ ان میں سے دوسرے شخص کو بھی ہیلی کاپٹر جبکہ تیسرے شخص کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔

پیرس کی پولیس کے مطابق پارک مانکیو میں زخمی ہونے والے بچوں کی اوسط عمریں نو سال ہیں۔

آگ بجھانے والے عملے کے ایک رکن پاسکل گرمیلیٹ جو اس وقت اپنی ڈیوٹی پر نہیں تھے نے ابتدائی طبی امداد اور دل کا مساج فراہم کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو صورتحال زیادہ خراب ہو سکتی تھی۔

اسی بارے میں