لاکھوں برطانوی نوجوان والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور

Image caption شارلٹ نِسبٹ اور جے ارکل دونوں مجبوراّ جے کے والدین کے گھر منتقل ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں اگلے دس سالوں میں دس لاکھ سے زیادہ نوجوان اپنے والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

انشورنس کمپنی ’اویوا‘ کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے مالی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہوئے بھی نہ تو الگ مکان خرید پا رہے ہیں اور نہ ہی کرائے پر لے پا رہے ہیں۔

کپمنی کی ایک حالیہ تحقیق میں پیشنگوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2025 تک اپنے والدین کے ساتھ رہنے والے 21 اور 34 سال کی عمر کے افراد کی تعداد 38 لاکھ ہو جائے گی جو کہ موجودہ تعداد سے ایک تہائی زیادہ ہوگی۔

اسی طرح اگلے دس سالوں میں برطانیہ میں ایسے گھروں کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 22 لاکھ ہو جائے گی جہاں دو یا دو سے زیادہ خاندان رہ رہے ہوں گے۔

’اویوا‘ کا خیال ہے کہ آئندہ دس برسوں میں بھی مکانات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا موجودہ رجحان جاری رہے گا۔

نا امیدی کا دور

شارلٹ نِسبٹ اور ان کے بوائے فرینڈ جے ارکل دونوں کی عمریں 24 سال ہیں اور گذشتہ عرصے میں یہ دونوں بھی الگ مکان کا کرایہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے مجبوراّ مشرقی لندن میں واقع جے ارکل کے والدین کے گھر میں منتقل ہو گئے ہیں۔

شارلٹ اور جے دونوں ملازمت بھی کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ دونوں اپنے ایک کمرے کے فلیٹ کا 650 پاؤنڈ ماہانہ کرایہ ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ اب یہ دونوں جے کے والدین کو ایک ایک سو پاؤنڈ دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption نگلینڈ اور ویلز میں ایسے گھروں کی تعداد 11 لاکھ تھی جہاں گنجائش سے زیادہ لوگ رہ رہے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شارلٹ کا کہنا تھا کہ ’ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم دونوں کا اپنا الگ گھر ہوتا اور ہم جے کے والدین کے سر پر نہ پڑے ہوتے۔‘

شارلٹ کہتی ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ وہ مستقبل قریب میں بھی اپنا الگ مکان خرید سکیں گے یا کرائے پر لے سکیں گے۔

’مجھے کوئی امید نہیں ہے۔ ہماری موجودہ تنخواہوں پر تو اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اور اگر ہم الگ مکان میں منتقل ہو بھی جاتے ہیں تو ہمارے پاس گھر سے باہر کھانا کھانے یا چھٹیاں گزارنے کے لیے کہیں جانے کے پیسے نہیں ہوں گے۔‘

گنجائش سے زیادہ لوگ

لیکن برطانیہ میں ہر کوئی شارلٹ کی طرح نہیں سوچ رہا، بلکہ کئی نوجوان جوڑے ایسے بھی ہیں جو دوسرے جوڑوں کے ساتھ رہنے کو اتنا برا بھی نہیں سمجھتے۔

اویوا کے مطابق ان لوگوں کا خیال ہے کہ جب آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں تو آپ کو گپ شپ لگانے، کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لیے دوسروں کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے اور آپ کے اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

اویوا کی مینیجنگ ڈائریکٹر لِنڈسی رِکس کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر بالغ لوگ اپنی عمر سے بڑی عمر کے افراد کے ساتھ رہنے کو مجبوری سمجھتے ہیں اور اس میں ان کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب نوجوانوں کو بچت کرنے کے لیے تعلیم کے بعد بھی واپس اپنے والدین کے گھر جانا پڑ جاتا ہے۔‘

’لیکن ہماری تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کئی جوان جوڑے اسے تکلیف کا باعث نہیں سمجھتے اور کئی لوگوں کے لیے یہ ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ یوں انھیں دوسرے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی مل جاتا ہے اور مالی بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔‘ سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں ایسے گھروں کی تعداد 11 لاکھ تھی جہاں سرکاری معیار کے مطابق گنجائش سے زیادہ لوگ رہ رہے تھے۔

لندن میں ایسے گھرانوں کے تعداد 11.3 فیصد تھی اور شہر میں کچھ علاقے ایسے پائے گئے تھے جہاں ایک مکان میں رہنے والے افراد کی تعداد ملک بھر کی اوسط سے بہت زیادہ تھی۔

اسی بارے میں