انسانیت کے خلاف جرائم پر چاڈ کے سابق حکمراں کو عمر قید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حبری پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے آٹھ سال کے دور اقتدار میں 40 ہزار لوگوں کا قتل کروایا

چاڈ کے سابق صدر حسين حبري کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

سینیگال کے دارالحکومت ڈکار میں افریقی یونین حمایت کی یافتہ عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔

حبری 1982 سے 1990 تک چاڈ کے حکمران رہے۔ جج نے انہیں ریپ، جنسی استحصال اور ہزاروں لوگوں کو قتل کروانے کا مجرم قرار دیا۔

حبری پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اس آٹھ سال کے دور اقتدار میں 40 ہزار لوگوں کا قتل کروایا۔

جیسے ہی حسین حبری کو جج نے عمر قید کی سزا سنائی عدالت میں موجود لوگ خوشی سے چلانے لگے اور زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Andrew StoehleinHRW
Image caption جیسے ہی حسین حبری کو جج نے عمر قید کی سزا سنائی عدالت میں موجود لوگ خوشی سے چلانے لگے

متاثرین کی وکیل جیکولین مادینيا نے کہا، ’پورے افریقہ میں اس فیصلے سے بے حد خوشی ہے کیونکہ ہم نے پوری دنیا میں اور خاص طور پر چاڈ میں پیغام دیا کہ آمروں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ہر طرف خوشی ہے، جوش و خروش ہے۔‘

ہلاک ہونے والوں کے خاندان والوں نے بھی فیصلے کو تاریخی قرجار دیا۔

حبری نے پوری سماعت کے دوران عدالت کی قانونی حیثیت پر ہی سوال اٹھائے اور اپنے اوپر لگے تمام الزامات سے انکار کیا۔

اپنے دور اقتدار کے دوران انہیں امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں